انوارالعلوم (جلد 26) — Page 84
انوار العلوم جلد 26 84 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت بھی کرتے تھے۔احمدیت کے خلاف گونا گوں تعصب رکھتے۔اُن کے لہجہ میں طنز کا پہلو نمایاں ہوتا اور بار بار کہتے کہ ہمیں کیا بتاتے ہو ہم تو آپ کی جماعت کے اندرون سے اچھی طرح واقف ہیں۔غالبا 1943 ء کی گرمیوں کا ذکر ہے کہ دورانِ گفتگو میں حسب معمول چودھری برکت علی نے متذکرہ بالا ہر دو غیر احمدی احباب کی موجودگی میں مجھے مخاطب کرتے ہوئے طنزاً کہا کہ تم ابھی بچے ہو تمہیں ابھی اپنی جماعت کے اندرون کا علم نہیں ہوا۔تمہاری جماعت کے سرکردہ لوگ ہم سے پوشیدہ ملتے رہتے ہیں اور اہلِ قادیان کے اندرونی حالات ہم کو بتاتے رہتے ہیں۔جس سے "مرزائیت کی سچائی " ہم پر خوب واضح ہو چکی ہے۔میں نے ان سے کہا اگر آپ جھوٹ بول کر اپنا ایمان ضائع نہیں کر رہے ہیں تو مجھے اُن سر کردہ احمدیوں کے نام بتائیں جو آپ کو پوشیدہ ملتے ہیں۔اور اگر بہت سی راز کی باتوں سے آپ پر سچائی آشکار ہو چکی ہے تو چند ایک ہمیں بھی بتا ئیں تا کہ ہم اس سچائی سے محروم نہ رہ جائیں۔لیکن وہ اس سوال سے کتراتے اور نام نہ بتاتے۔صرف اتنا کہتے کہ وہ لوگ تمہاری جماعت میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔لیکن ان سے بہت بے انصافی کا برتاؤ ہوا ہے، وہ قادیان میں بہت تنگ ہیں، ان کے حقوق کو پامال کیا گیا ہے اور اپنی تنگ دستی اور پریشانیوں کی ہم سے شکایت کرتے ہیں اور ہم سے مالی امداد بھی طلب کرتے رہتے ہیں۔پھر کچھ توقف کے بعد کہنے لگے کہ وہی لوگ ہمیں بتاتے ہیں کہ قادیان بھر میں دو شخص بھی ایسے نہیں ملیں گے جو دل سے موجودہ خلیفہ سے خوش ہوں۔ڈر کے مارے گو ظا ہر طور پر اب تک مخالفت نہیں ہوئی لیکن جہاں بھی موقع ملتا ہے لوگ خفیہ مجالس کر کے موجودہ خلیفہ کے خلاف غم وغصہ کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔“