انوارالعلوم (جلد 25) — Page 285
انوار العلوم جلد 25 285 سیر روحانی نمبر (9) 66 فرماتا ہے۔اِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ - فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ - 6 اے محمد رسول اللہ ! یقینا ہم نے تجھے کو ثر عطا کیا ہے سو تو اس کے شکریہ میں اپنے رب کی کثرت کے ساتھ عبادت کر اور اُسی کی خاطر قربانیاں کر۔اور یقین رکھ کہ تیر امخالف ہی نرینہ اولاد سے محروم ثابت ہو گا۔ہے، حدیث میں بھی آتا ہے۔سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَوْثَرِ فَقَالَ هُوَ نَهْرُ أَعْطَانِيْهِ اللهُ فِي الْجَنَّةِ 67 یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوثر کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا۔وہ ایک نہر ہے جو خدا نے مجھے جنت میں بخشی ہے۔غرض دیکھو یہ نہر کیا کیا شکلیں بدلتی چلی جاتی ہے۔کبھی یہ کا فوری نہر کہلاتی ، کبھی زنجبیلی نہر کہلاتی ہے ، کبھی دودھ کی نہر ہوتی ہے ، کبھی شہد کی نہر ہوتی ہے، کبھی کو ثر کی نہر ہوتی ہے۔پھر کبھی وہ اس دنیا میں چلتی ہے، کبھی اگلے جہان میں چلتی ہے، کبھی عرب میں چلتی ہے ، کبھی سمندر گود کے ہندوستان میں آجاتی ہے، پھر ہندوستان کے پہاڑ کودتی ہے اور چین وغیرہ ملکوں میں چلی جاتی ہے۔اسی طرح پہاڑی علاقوں میں چلی جاتی ہے۔غرض دنیا کی ہر خشکی اور ہر تری پر سے کودتی پھاندتی چلی جاتی ہے۔اس دنیا کو کودتی ہے ، موت کو گودتی ہے، کہیں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔اب بتاؤ ! اِس نہر اور دنیا کی نہروں کا کیا مقابلہ ہے۔پس کہاں دنیوی بادشاہوں کی بنائی ہوئی نہریں اور کہاں قرآن کی نہر۔اسلام اور کفر کی نہریں متوازی چلتی چلی جائینگی یہ نہریں جوش میں آکر ایک دوسرے کو کاٹ دیتی ہیں اور اگر ایک کا پانی گندہ ہو تو وہ دوسرے کے پانی کو بھی گندہ کر دیتی ہے۔مگر قرآنی نہر کا یہ حال ہے کہ اس پر ایک زمانہ تو وہ آتا ہے کہ دوسری نہریں خواہ کتنا زور 68 لگائیں اُس کے ساتھ نہیں مل سکتیں۔جیسا کہ فرماتا ہے۔بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لا يَبْغِينِ۔13 ہم نے دوسری نہروں اور اس نہر کے درمیان ایک روک بنادی ہے۔وہ اس کے اندر داخل ہو کر اس کے پانی کو گندہ نہیں کر سکتی۔یعنی دوسرے مذاہب کو شش کرینگے