انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 282

انوار العلوم جلد 25 282 سیر روحانی نمبر (9) مگر ان سے تقویٰ کا دانہ پکتا ہے۔دنیوی نہروں کا تیار کردہ غلہ ایک وقت کام آتا ہے اور پھر سڑ جاتا ہے مگر یہ وہ نہر ہے جس کا غلہ ابد الآباد تک کام آتا ہے۔فرماتا ہے الْمَالُ وَ الْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيوةِ الدُّنْيَا وَالْبقِيتُ الصَّلِحْتُ خَيْرُ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرُ أَمَلًا - 59 یعنی دنیا کی نہروں کے مال اور اس سے پیدا کئے ہوئے غلے اور نسل انسانی کے افراد صرف دنیا میں کام آتے ہیں آخرت میں کام نہیں آتے۔مگر جو قرآنی نہر سے پکا ہوا غلہ ہے وہ قیامت تک کام آتا چلا جائیگا۔حضرت مسیح ناصری نے بھی کہا ہے کہ اس دنیا کے خزانہ کو کیڑا کھا جاتا ہے مگر آسمان کا خزانہ محفوظ ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:- اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے اور جہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں بلکہ اپنے لئے آسمان پر مال جمع کرو جہاں نہ کیڑا خراب کرتا ہے نہ زنگ اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں۔" غرض وہ مال جو اس پانی سے پیدا ہو تا ہے اور وہ بیٹے جو اس مال کو کھا کر بڑھتے ہیں اسی دُنیا میں ختم ہو جاتے ہیں۔لیکن وہ چیزیں (الْبَا قِيَاتُ الصَّالِحَاتُ) جو قرآنی نہر سے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چلائی ہوئی نہر سے پلتے ہیں وہ قیامت تک زندہ رہتے ہیں اور ابدی زندگی پاتے ہیں۔کیونکہ مومن رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی نہر کا پھل ہے اور مومن کو ابدی زندگی کا وعدہ ہے۔اس لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہر کا پیدا کیا ہوا پھل قیامت تک چلے گا اور وہ کبھی خراب نہیں ہو گا۔دیکھو! ابو جہل کے مال نے جو مادی پانی سے حاصل ہوا تھا جو کچھ پیدا کیا وہ ختم ہو گیا مگر جو محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے پانی سے پیدا ہو اوہ ابدی زندگی پا گیا۔عمرؓ کا واقعہ دیکھو کیسی سنگلاخ زمین تھی مگر پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیر سے اُس میں سے کیسی نہر چلی بلکہ اُس سے پہلے ابو بکری نہر چلی، پھر عمر کی نہر چلی، پھر عثمانی نہر چلی، پھر علوی نہر چلی۔پھر اُس سے آگے قادری ، چشتی، نقشبندی اور سہر وردی نہریں جاری ہوئیں۔سید عبد القادر صاحب جیلانی، مولانا روم،