انوارالعلوم (جلد 25) — Page 237
انوار العلوم جلد 25 237 سیر روحانی نمبر (9) نیا مضمون سننے کا موقع مل جاتا تھا۔گو افسوس ہے کہ وہ لیکچر جلدی دیکھے نہ گئے۔اگر جلدی دیکھے جاتے تو اب تک کتابیں چھپ جاتیں۔میرا آج کا مضمون بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔میر اخیال تھا کہ یہ سارے مضامین مکمل ہو چکے ہیں لیکن جب میں نے اس کے متعلق پوچھا تو مجھے مولوی محمد یعقوب صاحب نے بتایا کہ ابھی تین مضمون باقی ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کا منشاء ہو ا تو اگلے سال یا دورانِ سال میں کسی وقت ان کو بیان کر دیا جائے گا۔انہوں نے بتایا ہے کہ آپ نے جو مضامین بیان کئے تھے ان میں سے لنگر ، کتب خانے اور باغات رہ گئے ہیں۔پچھلے سال جو میں نے نوٹ لکھے تھے ان میں سے ایک نہروں کا مضمون تھا جو رہ گیا تھا۔وہ نہروں کے نوٹ لکھے ہوئے میرے پاس تھے۔وہ بھی میں نے ٹھیک کروائے اور آیتیں بتا دیں جو انہوں نے خوشخط لکھوادیں۔گو بہر حال جب دوسرا شخص لکھتا ہے تو چونکہ اُس کے ذہن میں مضمون نہیں ہوتا وہ آگے پیچھے کر دیتا ہے۔چنانچہ انہوں نے بھی ایسا ہی کیا کہ مضمون کے اندر مضمون خلط کر دیا۔میں نے اس کو ٹھیک کرنے کی تو کوشش کی ہے لیکن بیمار آدمی کتنا ٹھیک کر سکتا ہے۔پھر بھی کچھ خلط باقی رہ گیا تھا جس کے متعلق میں نے آج کوشش کی کہ اسے دور کروں۔بہر حال میں کوشش کروں گا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے آج اس مضمون کو بیان کروں۔اللہ تعالیٰ کی صفات لیکن اس سے پہلے میں ایک اور مضمون بیان کرنا چاہتا ہوں جو در حقیقت اس مضمون کا ایک حصہ ہے کیونکہ یہ مضمون بھی اللہ تعالیٰ کی صفات اور قرآن کریم کے کمالات کے متعلق ہے اور وہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی صفات اور قرآن کریم کے کمالات کے ساتھ ہی تعلق رکھتی ہے۔ہماری نجات کا یہی ذریعہ ہے آج جس وقت ایک نوجوان قرآن کریم کی تلاوت کر رہا تھا اور اس نے یہ آیت پڑھی کہ اللہ تعالیٰ ہمارے عیوب کہ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ! کہ جو کچھ تم اور کمزوریوں کو بھلا دے کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کے ذرہ ذرہ کا واقف ہے