انوارالعلوم (جلد 25) — Page 193
انوار العلوم جلد 25 193 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1955ء زندگیوں میں ہو جائے تو پھر میں سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری زندگیاں بڑی خوش ہو جاتی ہیں، پھر دنیا کی کوئی تکلیف باقی نہیں رہتی۔کیونکہ پھر ہمیں نظر آجائے گا خدا ہم سے خوش ہو گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فعل سے بتا دیا ہے کہ وہ غَفُورُ الرَّحِیم ہمیں معاف بھی کر رہا ہے اور اپنی رحمت کے سامان بھی کر رہا ہے۔پس ان دعاؤں میں لگے رہو۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو۔“ دو تقریر کے آخر میں حضور نے اعلان فرمایا کہ :- چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے اپنی لڑکی کے نکاح کی تقریب پر کچھ دوستوں کو چائے کے لئے بلایا ہے۔میں یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میرا یہ فتویٰ جماعت میں مشہور ہے کہ رخصتانہ کے موقع پر لڑکی والوں کی طرف سے لوگوں کو کھانے کی دعوت نہ دی جایا کرے پس اس لئے کہ لوگوں کو یہ شبہ پیدا نہ ہو میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ جو فتویٰ ہے وہ بارات کے آنے کے متعلق ہے اور آج بارات وغیرہ کا کوئی سوال نہیں۔آج تو صرف نکاح ہوا ہے بارات نہیں آئی۔دوسرے چودھری صاحب خود باہر رہتے ہیں اور وہ اس وقت باہر سے ہی آئے ہیں۔وہ فتویٰ مقامی لوگوں کے متعلق ہے۔پس کوئی یہ نہ سمجھے کہ چودھری صاحب نے اس حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔یہ خلاف ورزی نہیں بلکہ یہ صورت بالکل اور ہے۔اوّل تو یہ نکاح ہے۔دوسرے چونکہ وہ باہر سے آئے ہیں جو دوست ان کے ملنے والے اور ان سے تعلق رکھنے والے ہیں اُن کے متعلق بہر حال دل میں خواہش ہوتی ہے کہ انہیں ایسی تقریب میں خاص طور پر شامل کیا جائے اس لئے ان کا یہ فعل اس فتویٰ کے خلاف نہیں بلکہ یہ استثنائی صورت رکھتا ہے اور اس پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔جو فتویٰ ہے وہ یہ ہے کہ بارات آئے تو اُس کی دعوت کر کے کھانا کھلانا ایک رسم ہے مگر یہ شادی نہیں نکاح ہے۔ہمارے ملک میں تو یہ قاعدہ ہے کہ عام طور پر ایسی تقریبوں میں اُسی وقت نکاح اور اُسی وقت رخصتانہ کرتے ہیں۔لیکن ہمارے ہاں احمدیوں میں یہ دستور ہے کہ نکاح الگ ہو جاتا ہے اس لئے یہ چیز ہی الگ ہے جو رسم کے نیچے نہیں آتی۔کیونکہ جو لوگ رسمیں بناتے ہیں اُن کا یہ قاعدہ ہی نہیں کہ وہ نکاح