انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 133

انوار العلوم جلد 25 133 احباب جماعت کے نام پیغامات ضرورت باقی نہیں رہی۔میرا مکمل آرام دوستوں کے ہاتھ میں ہے۔اگر دوست میری پوری طرح مدد کریں تو ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق میں کچھ مزید کام کر سکتا ہوں۔لیکن اگر دوستوں نے تعاون نہ کیا تو خطرہ موجود ہے۔خلیفة المسیح " (الفضل 24 مئی 1955ء) پیغام از زیورچ سوئٹزرلینڈ مورخہ 1955ء-5-22 "" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ وَ عَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ زیورچ 22 مئی 1955ء برادران! السّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ سالہا سال کی بات ہے میں نے خواب دیکھی تھی اور وہ اخبار میں کئی دفعہ چھپ بھی چکی ہے۔میں نے دیکھا کہ میں کرسی پر بیٹھا ہوں اور سامنے ایک بڑا قالین ہے اور اُس قالین پر عزیزم چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب، عزیزم چودھری عبد اللہ خاں صاحب اور عزیزم چودھری اسد اللہ خاں صاحب لیٹے ہوئے ہیں۔سر اُن کے میری طرف ہیں اور پاؤں دوسری طرف ہیں اور سینہ کے بل لیٹے ہوئے ہیں اور میں دل میں کہتا ہوں کہ یہ تینوں میرے بیٹے ہیں۔عزیزم چودھری ظفر اللہ خاں صاحب نے ساری عمر دین کی خدمت میں لگائی ہے اور اس طرح میرا بیٹا ہونے کا ثبوت دیا۔میری بیماری کے موقع پر تو اللہ تعالیٰ نے صرف ان کو اپنے بیٹا ہونے کو ثابت کرنے کا موقع دیابلکہ میرے لئے فرشتہ رحمت بنا دیا۔وہ میری محبت میں یورپ سے چل کر کراچی آئے اور میرے ساتھ چلنے اور میری صحت کا خیال رکھنے کے ارادہ سے آئے۔چنانچہ ان کی وجہ سے سفر بہت اچھی طرح کٹا اور بہت سی باتوں میں آرام رہا۔آخر کوئی انسان پندرہ بیس سال پہلے