انوارالعلوم (جلد 25) — Page 127
127 احباب جماعت کے نام پیغامات انوار العلوم جلد 25 میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے کراچی آنا بہت مفید ثابت ہوا ہے اور یہاں یورپ کے علاج کے متعلق نہایت مفید مشورے حاصل ہوئے ہیں۔اور ڈاکٹروں نے نہایت محبت سے علاج کے مثبت اور منفی پہلو سمجھا دیئے ہیں۔اب صرف ایک تشخیص باقی ہے۔ڈاکٹروں کی رائے یہ ہے کہ وہ تشخیص یورپ میں ہی ہو سکتی ہے۔اور یہ کہ اگر وہ بھی تسلی دلانے والی ہو تو انشاء اللہ تعالیٰ بیماری کا کوئی حصہ بھی تشویشناک باقی نہیں رہے گا۔بلکہ جب کل میں نے ایک مشہور اعصابی بیماریوں کے ماہر سے مشورہ لیا کہ اگر تشخیص کے بعد ڈاکٹر وہاں علاج تجویز کر دیں اور میں واپس آنا مفید سمجھوں تو کیا ان کے نزدیک باقی علاج کراچی میں ہو سکے گا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ جب مکمل تشخیص کے بعد نسخہ بھی وہ تجویز کر دیں تو اُن کی اجازت اور حالات کے مطابق اگر میں کراچی آ جاؤں تو بقیہ علاج وہ امید کرتے ہیں یہاں ہو سکے گا۔مگر اس میں انحصار وہاں کے ڈاکٹروں کی رائے پر کرنا چاہیے۔اگر جماعت کے احباب کی دعائیں اللہ تعالیٰ سُن لے تو کوئی تعجب نہیں ایسی صورت نکل آئے کہ میں چند دن یا چند ہفتے اس وقت کے قیاس سے پہلے آسکوں۔وَ الْعِلْمُ عِنْدَ الله۔گو زور اُن کا یہی ہے کہ وہاں کی آب و ہوا سے فائدہ اٹھانا چاہیئے جو اس مرض کے لئے بہت فائدہ مند ہے۔بعض علاجوں کے متعلق اُنہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ سخت تکلیف دہ ہیں۔اگر وہاں کے ڈاکٹر وہ علاج تشخیص کریں تو اس سے انکار کر دیا جائے اور کہا کہ ہم یہ علاج کراچی میں کروالیں گے جہاں یہ سب سامان موجود ہے۔مگر ان کی رائے یہی ہے کہ ایسے سخت علاج کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔انْشَاء الله مرزا محمود احمد خلیفة المسیح الثانی "" ' 27-4-1955 (الفضل یکم مئی 1955ء)