انوارالعلوم (جلد 24) — Page 38
انوار العلوم جلد 24 38 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی غیر احمدی علماء کے فتوے کہ (6-الف) یہ درست ہے کہ احمدیوں احمدیوں کے پیچھے نماز جائز نہیں نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں لیکن احمدیوں 77 نے یہ فتویٰ 1900ء میں دیا ہے۔17 اس سے پہلے غیر احمدیوں نے 1892ء میں یہ فتویٰ دیا تھا کہ احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں۔مولانا مودودی صاحب فرمائیں افتراق کس نے پیدا کیا؟ اس نے جس نے 1892ء میں احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے لوگوں کو روک دیا تھا یا اُس نے جس نے آٹھ سال صبر کرنے کے بعد یہ اعلان کیا کہ بہت اچھا، غیر احمدی علماء نے جو فتویٰ دیا ہے اُس کو مان لو اور اب ان کے پیچھے نماز نہ پڑھو کیونکہ ان کے نزدیک تمہارے مسجدوں میں جانے سے ان کی مساجد ناپاک ہو جاتی ہیں۔غیر احمدی علماء نے اس بارہ میں جو فتوے دیئے ہیں ان میں سے صرف چند فتوے ذیل میں درج کئے جاتے ہیں :- (1) مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی نے بانی سلسلہ اور ان کے اتباع کے متعلق لکھا ہے:- نہ اس کو ابتداء سلام کریں اور نہ اس کو دعوتِ مسنون میں بلائیں اور نہ اس کی دعوت قبول کریں اور نہ اس کے پیچھے اقتداء کریں“۔78 (2) مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے فتویٰ دیا:- قادیانی کے مرید رہنا اور مسلمانوں کا امام بننا دونوں باہم ضدیں ہیں یہ جمع نہیں ہو سکتیں “۔79 (3) مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے فتویٰ دیا:- حرام ہے جس کے یہ عقائد ہیں اس کو اور اس کے اتباع کو امام بنانا 80 "