انوارالعلوم (جلد 24) — Page 29
انوار العلوم جلد 24 29 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی تمغات لعنت کا مستحق، مورد ہزار لعنت، ظلام، افاک، مفتری علی اللہ، بے حیا، دھوکا باز، حیلہ باز، بھنگیوں اور بازاری شہروں کا سر گروہ، دہریہ ، جہان کے احمقوں سے زیادہ احمق، جس کا خدا شیطان، یہودی، ڈاکو، خونریز، بے شرم، مگار، طرار ، جس کی جماعت بدمعاش، بد کردار، زانی، شرابی ، حرام خور ، اس کے پیر و خرانِ بے تمیز “ 50 مولوی عبدالحق صاحب غزنوی عم بزرگوار مولانا داؤد غزنوی نے اشتہار ضَرْبُ النِّعَالِ عَلَى وَجْهِ الدَّجَال میں جو 1896ء میں شائع ہوا آپ کے متعلق لکھا:- دنبال ملحد ، کافر، روسیاه، بدکار، شیطان، لعنتی، بے ایمان، ذلیل و خوار، خسته ، خراب، کاذب، شقی سرمدی، لعنت کا طوق اس کے گلے کا ہار ہے لعن طعن کا جوت اس کے سر پر پڑا، اللہ کی لعنت ہو، اس کی سب باتیں بکواس ہیں“۔بارہ سال تک برابر ان فتوؤں کو سننے کے بعد اگر بانی سلسلہ احمدیہ نے ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے یہ فتوے دیئے تھے یا ان لوگوں کے خلاف جو ان فتوؤں متفق تھے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے مطابق کہ إذَا الْفَرَا الرَّجُلُ أَخَاهُ فَقَدْ بَاءَ بِهَا اَحَدُهُمَا یعنی اگر کوئی اپنے بھائی کو کافر کہے تو دونوں فریق میں سے ایک ضرور کافر ہو گا۔کوئی فتویٰ دیا تو کیا غضب کیا اور کس طرح اس فتویٰ کی وجہ سے آپ امت محمدیہ سے الگ ہو گئے۔مولانامودودی اور ان کے ہمنوا بزرگ تو بارہ سال تک مرزا صاحب پر فتویٰ لگانے کے بعد اُمتِ محمدیہ میں افتراق پیدا کرنے والے نہ بنے لیکن بارہ سال کے بعد مرزا صاحب ان فتوؤں کا جواب دینے کی وجہ سے اشتقاق اور افتراق پیدا کرنے کا موجب بن گئے۔کیوں؟ کیا اس لئے کہ مرزا صاحب کی حمایت تھوڑی تھی اور ان علماء کی باتوں کی تصدیق کرنے والے بہت تھے۔پھر ہم پوچھتے ہیں مودودی صاحب کو جانے دیجئے باقی علماء اسلام نے ایک دوسرے کے متعلق کیا کہا ہے۔مودودی صاحب نے اپنی جماعت کے سوا