انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 388

انوار العلوم جلد 24 388 تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان سوال: از راہ کرم ذکر الہی کے صفحہ نمبر 22 کو دیکھئے جس میں حسب ذیل عبارت آتی ہے: میر اتو یہ عقیدہ ہے کہ دُنیا میں دو گروہ ہیں۔ایک مؤمن۔دوسرے کافر۔پس جو حضرت مسیح موعود پر ایمان لانے والے ہیں وہ مؤمن ہیں اور جو ایمان نہیں لائے خواہ ان کے ایمان نہ لانے کی کوئی وجہ ہو وہ کا فر ہیں۔“ کیا یہاں لفظ ” کا فر مؤمن کے مقابل پر استعمال نہیں ہوا؟ جواب: اس عبارت میں مؤمن سے مراد وہ شخص ہے جو مرزا غلام احمد صاحب پر ایمان لاتا ہے اور کافر سے مراد وہ شخص ہے جو آپ کا انکار کرتا ہے۔عدالت کا سوال: تو کیا مرزا غلام احمد صاحب پر ایمان لانا جزو ایمان ہے ؟ جواب: جی نہیں۔یہاں پر لفظ مؤمن صرف مرزا غلام احمد صاحب پر ایمان لانے کے مفہوم کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے نہ کہ اسلام کے بنیادی عقیدوں پر ایمان لانے کے مفہوم میں۔سوال: کیا جب ”کفر “ کے لفظ کے استعمال سے غلط فہمی اور تلخی پیدا ہونے کا احتمال ہے تو یہ بہتر نہیں ہو گا کہ یا تو اس کے استعمال کو قطعی طور پر ترک کر دیا جائے یا اس کے استعمال میں بہت احتیاط برتی جائے؟ جواب: ہم 1922ء سے اس سے اجتناب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مولانا میکش کے سوال: کیا آپ نے اپنی جماعت کے متعلق کبھی اُمت کا لفظ استعمال کیا ہے؟ جواب: میرا عقیدہ ہے کہ احمدی علیحدہ اُمت نہیں ہیں اور اگر کہیں اُمت کا لفظ احمدیوں کے متعلق استعمال ہوا ہے تو بے توجہی سے ہوا ہو گا اور اس سے اصل مراد جماعت ہے۔سوال: 13 اگست 1948ء کا الفضل دیکھئے۔اس میں حسب ذیل عبارت ہے: اللہ تعالیٰ نے جو کام ہمارے سپر د کیا وہ کسی اور اُمت کے