انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 385

انوار العلوم جلد 24 385 تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان سوال: کیا حضرت عیسی ہی یہ مسیح تھے ؟ جواب: ہمارے عقیدہ کے مطابق وہی مسیح تھے لیکن یہودیوں کے عقیدہ کے مطابق نہیں۔سوال: کیا حضرت عیسی ناصری نے کبھی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا؟ جواب: جی ہاں۔سوال: یہودیوں نے خدا کو ایک تاجر کی شکل میں پیش کیا تھا اور یہ کہہ کر اس کے واحد اجارہ دار بن گئے تھے کہ خدا نے ابراہیم سے عہد کیا تھا کہ وہ کنعان کی زمین دوبارہ انہیں دے گا۔اسی طرح پولوس کو ماننے والے عیسائیوں نے خدا پر اپنا پہلا حق رہن جتایا اور اس حق رہن کی وجہ گال گو تھا کی پہاڑی پر حضرت مسیح کا پھانسی پانا قرار دی۔اب مولانا مر تضیٰ احمد میکش اور ان کے ساتھ دوسرے علمائے دین دعوی کرتے ہیں کہ خدا پر پہلا حق رہن ان کا ہے اور اس رہن کی قیمت یہ قرار دی گئی ہے کہ ذہنی غلامی اختیار کر لی جائے۔کیا آپ بھی مرزا غلام احمد صاحب کی نبوت پر ایمان لانے کی وجہ سے خدا پر کسی مخصوص اور علیحدہ حق رہن کا دعویٰ رکھتے ہیں؟ جواب: ہم نہ تو کسی ایسے حق رہن کو مانتے ہیں اور نہ اس کے دعویدار ہیں۔مولانا میکش کے سوال: آپ نے کل فرمایا تھا کہ مرزا غلام احمد صاحب نے صرف عیسی بن مریم پر اپنے آپ کو فضیلت دی ہے مگر 4و6۔اپریل 1915ء کے الفضل (دستاویز ڈی۔ای 325) میں مرزا صاحب کی 17 اپریل 1902ء کی ڈائری سے یہ عبارت نقل کی گئی ہے: کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے ہیں وہ سب حضرت رسول کریم میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم سے ظلی طور پر ہم کو عطا کئے گئے۔اور اس لئے ہمارا نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، سلیمان، یحی، عیسیٰ وغیرہ ہے۔چنانچہ ابراہیم ہمارا نام اس واسطے ہے کہ