انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 379

انوار العلوم جلد 24 379 تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان جواب: یہ تو قانون ساز اسمبلی کی اکثریت ہی فیصلہ کر سکتی ہے کہ رئیس مملکت مسلمان ہو یا غیر مسلم۔سوال: کیا آپ اپنی جماعت کے لوگوں سے یہ کہتے رہے ہیں کہ ان کا معاشرہ دوسرے مسلمانوں سے مختلف ہونا چاہئے؟ جواب: جی نہیں۔سوال: کیا آپ نے اپنی جماعت کے لوگوں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ پاکستان میں سر کاری عہدوں پر قبضہ کر لیں؟ جواب: جی نہیں۔سوال: کیا جنگی لحاظ سے ربوہ کے جائے وقوع کو کوئی خاص اہمیت حاصل ہے؟ جواب: جی ہاں۔حکومت پاکستان کے ہاتھوں میں یہ ایک جنگی اہمیت والا مقام ہو گا۔سوال: کیا آپ نے جیسا کہ الفضل مورخہ 9 نومبر 1948ء صفحہ نمبر 2 پر چھپا ہے ربوہ میں ایک پر یس کا نفرنس میں یہ بیان دیا تھا کہ : گو یہ زمین موجودہ حالت میں واقعی مہنگی ہے اور اس میں کوئی جاذبیت نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم اسے ایک نہایت شاندار شہر کی صورت میں تبدیل کرنے کا تہیہ کر چکے ہیں جو دفاعی لحاظ سے بھی پاکستان میں محفوظ ترین مقام ہو گا۔جواب: میں پانچ سال کے عرصہ کے بعد اس وقت بتا نہیں سکتا کہ کانفرنس میں میرے اصل الفاظ کیا تھے۔عدالت کا سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ربوہ کو جنگی لحاظ سے کوئی اہمیت حاصل ہے ؟ جواب: ربوہ کے درمیان سے موٹر سڑک اور ریل دونوں گزرتی ہیں اس لئے اسے حکومت پاکستان کے خلاف جنگی اہمیت رکھنے والا مقام خیال نہیں کیا جا سکتا لیکن دوسرے لوگوں کے لحاظ سے اسے ہمارے لئے خاص اہمیت ضرور حاصل ہے کیونکہ چنیوٹ کی طرف سے جو دریا کے دوسری جانب واقع ہے اس پر حملہ نہیں ہو سکتا۔