انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 403

انوار العلوم جلد 23 403 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ میں کمی نہیں کی۔غرض یہ لوگ گورنمنٹ عالیہ کی مصلحت کے بہت حارج ہوئے۔ہماری گورنمنٹ کی طرف سے یہ کارروائی نہایت قابل تحسین ہوئی کہ مسلمانوں کو ایسی کتابوں کے جواب لکھنے سے منع نہیں کیا۔356 پھر ان فتنوں کو روکنے کے لئے تحریر فرماتے ہیں کہ :- ”میرے نزدیک احسن تجویز وہی ہے جو حال میں رومی گورنمنٹ نے اختیار کی ہے اور وہ یہ کہ امتحاناً چند سال کے لئے ہر ایک فرقہ کو قطعاً روک دیا جائے کہ وہ اپنی تحریروں میں اور نیز زبانی تقریروں میں ہر گز ہر گز کسی دوسرے مذہب کا صراحۃ یا اشارةً ذکر نہ کرے۔ہاں اختیار ہے کہ جس قدر چاہے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کرے اِس صورت میں نئے نئے کینوں کی تخم ریزی موقوف ہو جائے گی اور پرانے قصے بھول جائیں گے اور لوگ باہمی محبت اور مصالحت کی طرف رجوع کریں گے “۔357 ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے جہاد کے متعلق وہی تعلیم دی ہے جو قرآن کریم نے دی ہے اور آپ کے زمانہ میں جو جہاد کو روکا گیا ہے اُس کی تین و جنہیں آپ نے بتائی ہیں۔ایک تو یہ کہ یہ حکم دوری ہے یعنی جب جب وہ حالات پید اہوں جن حالات میں اس حکم کو جاری کیا گیا تھا اس وقت یہ حکم جاری ہو گا نہ کہ ہر زمانہ میں اور وہ حالات اِس زمانہ میں پیدا نہیں۔دوسرے یہ کہ جو تعریف جہاد کی اس وقت کے علماء کر رہے ہیں اور جس پر عمل کرنے کے لئے مسلمان کو بھڑکا رہے ہیں وہ تعریف اسلام سے ثابت نہیں۔اس میں وحشت کی تعلیم دی گئی ہے اور اسلام کے خلاف ہے۔تیسرے یہ کہ اس حکم کو اس زمانہ میں روکنے کا فیصلہ بانی سلسلہ احمدیہ نے نہیں کیا