انوارالعلوم (جلد 23) — Page 182
انوار العلوم جلد 23 182 تعلق باللہ کی کوشش کرے گا تو اُس مخلوق کا خالق اور رب فساد کرنے والے سے کس طرح محبت کرے گا۔اگر کسی بچہ سے انسان کو نفرت ہو تو اُس کی ماں کبھی نفرت کرنے والے سے پیار نہیں کر سکتی۔جب تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی ہے تو صاف ظاہر ہے کہ جو شخص فساد ڈلواتا ہے اور لوگوں کی آپس میں لڑائیاں کرواتا رہتا ہے خدا تعالیٰ اُسے کبھی پسند نہیں سکتا۔انگریزی میں ایک حکایت مشہور ہے کہ کسی شخص کو ایک عورت سے عشق ہو گیا۔وہ عورت بیوہ تھی اور وہ اُس سے شادی کرنا چاہتا تھا مگر یوروپین طریق کے مطابق خالی پیغام سلام سے شادی نہیں ہو سکتی تھی ضروری تھا کہ پہلے اُسے اپنی طرف متوجہ کیا جائے کہ یورپ کے لوگوں میں مرد و عورت کی دوستی کے بعد شادی ہوتی ہے پہلے نہیں۔پس وہ اُسے اپنی طرف راغب کرنے کی بڑی کوشش کرتا مگر اُسے کامیابی حاصل نہ ہوئی۔آخر اس نے اپنے کسی دوست سے ذکر کیا کہ مجھے اِس اِس طرح فلاں عورت سے عشق ہے اور میں اُس سے شادی کرنا چاہتا ہوں مگر وہ میری طرف توجہ ہی نہیں کرتی۔اُس نے کہا عورت کا کوئی بچہ ہے یا نہیں ؟ اُس نے کہا کہ بچہ تو ہے۔اس نے کہا تو پھر محبت میں کونسی مشکل ہے بچہ کو اُٹھا کر اُس سے چند دن پیار کر و عورت تم سے خود بخود بے تکلف ہو جائے گی۔تو جس سے کسی کو محبت ہو اُس سے نفرت رکھنے سے کبھی اُس شخص کی محبت حاصل نہیں کی جاسکتی۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ خاکم نثار کو چہ آلِ محمد است اب آلِ محمد میں سے اچھے بھی ہوتے ہیں اور بُرے بھی۔مگر اس وجہ سے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے حصول کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ انسان اُن سے محبت کرے۔یہ خیال کرنا کہ آلِ محمد سے بے شک محبت نہ ہو لیکن محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت مجھے حاصل ہو جائے گی غلط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ۔اگر تم