انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 639 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 639

انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۳۹ اتحاد المسلمین واپس کر دیتا ہے لیکن دوسرے کو دو پیسے بھی دئے جائیں تو وہ اُن میں خیانت کر جاتا ہے۔کسی کو آدھی روٹی دے دی جائے تو وہ گزارہ کر لیتا ہے، کسی کو چار روٹیاں دی جاتی ہیں لیکن وہ پھر بھی کھانا کم ملنے کی شکایت کرتا ہے۔کوئی دال اور معمولی سالن پر گزارہ کر لیتا ہے تو کوئی زردہ اور پلاؤ کی خواہش کرتا ہے۔پھر میلان کا فرق ہے۔اپنے بچوں کو پوچھ کر دیکھ لو۔کوئی وکالت کا پیشہ پسند کرتا ہے تو کوئی سپاہ گری کو پسند کرتا ہے۔کوئی کہتا ہے میں کلر کی کروں گا تو کوئی کسی اور کام کی طرف مائل ہوتا ہے۔اگر زور دے کر انہیں کوئی خاص پیشہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے تو بغاوت ہو جاتی ہے اور کئی بچے اسی لئے بھاگ جاتے ہیں کہ وہ کسی پیشہ کی طرف مائل ہوتے ہیں لیکن ماں باپ انہیں کسی اور پیشے کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔میرے اپنے عزیزوں سے ایک بڑے افسر ہیں۔وہ ڈاکٹری کی طرف مائل تھے لیکن ان کے ماں باپ انہیں انجینئر بنانا چاہتے تھے۔اب گو وہ بڑے افسر ہیں لیکن اس وقت وہ صرف اس اختلاف کی وجہ سے گھر سے بھاگ گئے تھے وہ یہی کہتے تھے کہ میں ڈاکٹر بنوں گا۔یہ مثالیں میں نے ایسی چیزوں کی دی ہیں جو قدرتی اور طبعی ہوتی ہیں لیکن بعض چیزیں اکتسابی بھی ہیں مثلاً علم کی کمی اور زیادتی ہے۔کوئی بڑا عالم ہوتا ہے تو کوئی معمولی لکھا پڑھا ہوتا ہے۔کوئی عربی میں بولتا ہے تو کوئی ترکی میں کلام کرتا ہے، کوئی فارسی میں بولتا ہے تو کوئی پشتو میں بولتا ہے۔کوئی ہندی میں بولتا ہے تو کوئی چینی میں بولتا ہے۔پھر جائے رہائش کا فرق ہے۔کوئی ٹھنڈے ملک کا رہنے والا ہوتا ہے ، کوئی گرم ملک کا رہنے والا ہوتا ہے اور کوئی درمیانی آب و ہوا والے ملک کا رہنے والا ہوتا ہے۔کوئی ایسے ملک کا رہنے والا ہوتا ہے جہاں ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں کوئی کو والے ملک کا رہنے والا ہوتا ہے۔پھر سامان معیشت کا فرق ہے، خوراک کا فرق ہے۔کوئی چاول کھاتا ہے ، کوئی گندم کھاتا ہے اور کوئی باجرا کھاتا ہے۔یہاں ہمارے ملک میں ہی اتنا اختلاف پایا جاتا ہے کہ حیرت آتی ہے حالانکہ ملک ایک ہے۔میں جب شروع شروع میں یہاں آیا تو مجھے زمینداروں نے بتایا کہ ہم نے مزارعین کے لئے باجرہ کی بجائے گندم رکھی تو وہ ناراض ہو گئے لیکن ہمارے ہاں انہیں باجرا دو تو وہ ناراض ہوتے