انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 614 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 614

انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۱۴ سیر روحانی (۶) مسلمان مصنفین نے بھی دشمن کے مقابلہ میں معذرتیں شروع کر دیں، اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور آپ نے دنیا کو چیلنج کیا کہ میں محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی بیٹا ہوں اور میں اس بات کا ایک زندہ ثبوت ہوں کہ آج محمدی چشمہ کے سوا باقی تمام چشمے سُوکھ گئے ہیں اور میں اس چشمہ کا پانی پی کر زندہ ہوا ہوں۔اگر تم سمجھتے ہو کہ تم بھی کسی زندہ مذہب کے پیرو ہو تو تم میرے سامنے وہ زندہ شخص پیش کرو جس پر خدا تعالیٰ کا تازہ کلام اُترتا ہو۔مگر واقعات بتا رہے ہیں کہ اس چیلنج کے مقابلہ میں دنیا کی ساری قو میں ابتر ہو کر رہ گئیں اور وہ اسلام کے پہلوان کے مقابلہ میں اپنا کوئی پہلوان پیش نہ کر سکیں۔ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے مگر نہ ہندو کوئی روحانی بیٹا پیش کر سکے ہیں نہ عیسائی کوئی روحانی بیٹا پیش کر سکے ہیں نہ یہودی کوئی روحانی بیٹا پیش کر سکے ہیں ، نہ بدھ یا کنفیوشس مذہب کے پیرو کوئی روحانی بیٹا پیش کر سکے ہیں، نہ یورپ کا فلسفہ کوئی بیٹا پیش کر سکا ہے۔ساٹھ سال سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی بیٹے کا چیلنج موجود ہے کہ اگر تمہارے اندر کوئی نور اور صداقت ہے تو تم میرے مقابلہ میں وہ شخص پیش کرو جس نے تمہارے مذہب پر چل کر خدا تعالیٰ کے مکالمات کا شرف حاصل کیا ہو اور اس کی تازہ وحی اور نشانات کا مورد ہوا ہو مگر کوئی مذہب اپنا روحانی بیٹا پیش نہیں کر سکا۔پس جس طرح آج سے تیرہ سو سال پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس انعام کو پورا کیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کی نعماء سے حصہ عطا فرمایا اسی طرح اُس نے تیرہ سو سال کے بعد ایک بار پھر دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی صاحب اولاد ہیں اور آپ کے دشمن ہی ابتر ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اسی دربار خاص میں ایک اور عظیم الشان انعام بھی اس خدائی گورنر جنر ل کو عطا کو مقامِ مقام م محمود کی بشارت کیا گیا اور کہا گیا کہ عَسَى أَن يَبْعَتُكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودان ۱۲۸ یعنی اے محمد رسول اللہ ! عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ ہر