انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 530

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۳۰ سیر روحانی (۶) مشورہ دے اور بتائے کہ انہوں نے اِن اِن ہدایتوں کے ماتحت کام کرنا ہے تا کہ وہ اپنے فرائض کو صحیح طور پر ادا کر سکیں۔چنانچہ اب اس دربار کا ذکر کیا جاتا ہے جس میں عہدہ رسالت کی تفویض کے احکام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے گئے اور بتایا گیا کہ آپ نے دنیا میں کیا کرنا ہے اور کس طرح اپنے فرائض کو سرانجام دینا ہے۔دُنیوی بادشاہوں کے مشوروں کی حقیقت ہم دیکھتے ہیں کہ دنیوی درباروں میں اوّل تو بادشاہ خود مشورہ کا محتاج ہوتا ہے اور پھر جو وہ مشورے دیتا ہے بالعموم غلط بھی ہوتے ہیں اور بعض اوقات اُن مشوروں سے وزراء کو اتفاق نہیں ہوتا اور بعض دفعہ وہ اُن پر عمل ہی نہیں کر سکتے اور سب کام خراب ہو جاتا ہے مگر یہ ایسا دربار ہے جس کا بادشاہ کسی کے مشورہ کا محتاج نہیں۔کامیابی کے متعلق تذبذب کی کیفیت پھر دنیوی دربارِ خاص میں بادشاہ ایک افسر کو بلاتا ہے تو اس سے کہتا ہے کہ ہم تمہاری وفاداری پر یقین کر کے تم کو فلاں عہد ہ پر مقرر کرتے ہیں امید ہے تم ہمارے اعتبار کے اہل ثابت ہو گے تم فلاں فلاں کام دیانتداری سے کرو اور اگر تم اس میں کامیاب ہو جاؤ گے تو ہم تم سے بہت خوش ہونگے۔میں پہلے بتا چکا ہوں کہ وہ خوشی کتنی حقیر ہوتی ہے مگر بہر حال یہی سہی لیکن ان کلمات میں بھی کتنی کمزوری پائی جاتی ہے۔اوّل بادشاہ کہتا ہے ہم تم کو چُنتے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ تم کامیاب ہو گے گویا با دشاہ اُس کو ایک تخمین (یعنی اندازہ) سے چُنتا ہے اور پھر اس شک میں رہتا ہے کہ معلوم نہیں وہ کامیاب بھی ہوگا یا نہیں۔لیکن اس الہی دربار میں کوئی شک نہیں ہر شخص کو یقین کے ساتھ چنا جاتا ہے اور یقین کیا جاتا ہے کہ وہ کامیاب ہوگا اور یقین کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ وہ کیوں کا میاب نہیں ہو گا جب کہ ہم اس کے ساتھ ہیں۔بڑے بڑے جرنیلوں کی ناکامی دنیا میں بسا اوقات بڑے بڑے جرنیل بڑے سکتے ثابت ہوتے ہیں چنا نچہ دیکھ لو