انوارالعلوم (جلد 22) — Page 505
انوار العلوم جلد ۲۲ اتنا عرصہ قید رہے۔سیر روحانی (۶) قرآنی در بارِ خاص کی نرالی شان ان ڈو نیوی بادشاہوں کے دربار خاص کے مقابلہ میں میں نے قرآنی دربارِ خاص کو دیکھا تو مجھے اس کی شان ہی اور نظر آئی۔میں نے دیکھا کہ یہ بادشاہ جو قر آنی در بارِ خاص کا مالک تھا اولا د اور بیویوں سے بالکل آزاد تھا اس لئے یہاں اس قسم کے جوڑ تو ڑ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔نہ اس بات کا کوئی سوال تھا کہ درباریوں کی محبت اور درباریوں کے اخلاص کو بانٹنے والے لوگ دنیا میں موجود ہیں اور نہ اس بات کا کوئی سوال تھا کہ وہ بیٹھا ہو ا مخاطب ہم سے ہے اور غرض یہ ہے کہ ہم سے کام لے کر اپنے بیٹے کی عزت بڑھائے۔اس دربار میں وہ جو بھی عزت دیتا تھا وہ ہمارے لئے ہی ہوتی تھی کوئی اور اُس کو نہیں چھین سکتا تھا۔چنانچہ قرآن کریم اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے وَقُلِ الحَمدُ للهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذ ولدا و لَمْ يَكُن لَّا شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيَّ مَنَ الذُّلِ وَكَبْرَهُ تَكْبِيران خدا تعالیٰ کی وحدانیت دیکھو شرک ایک بڑی اہم چیز ہے اور تمام اسلام کی اور حمد کا گہرا تعلق بنیاد اس کے روڈ پر ہے، تمام مذاہب کی بنیاد اس کے رڈ پر ہے مگر سوال تو یہ ہے کہ شرک کی تردید کے ساتھ الْحَمْدُ لِلہ کا کیا تعلق ہے؟ الْحَمدُ لِلهِ تو انسان اسی صورت میں کہہ سکتا ہے جب اس کا نتیجہ ہمارے ساتھ تعلق رکھتا ہو۔اگر ایک خدا ہونے سے ہمیں کوئی خاص فائدہ پہنچتا ہے تو پھر بے شک ہم کہیں گے الْحَمْدُ للهِ خدا ایک ہے ورنہ جہاں تک خدا کے ایک ہونے کا سوال ہے یہ ایک صداقت ہے جسے ماننا پڑتا ہے مثلاً سورج ایک ہے کہنا پڑتا ہے کہ ایک ہے۔سامنے پہاڑ ہو مانا پڑے گا کہ پہاڑ ہے مگر یہ تو نہیں کہیں گے کہ الْحَمْدُ لِلہ یہ پہاڑ ہے کیونکہ ہمارے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں لیکن اگر ہمیں گرمی لِلَّهِ لگ رہی ہو اور اُس وقت ٹھنڈی ہوا چل پڑے تو ہم کہیں گے الْحَمْدُ لِلَّهِ اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ ہم خالی ہوا کے چلنے پر اَلحَمدُ لِلهِ کہہ رہے ہیں بلکہ ہم ہوا کے