انوارالعلوم (جلد 21) — Page 228
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۲۸ کوشش کرو کہ اُردو ہماری مادری زبان بن جائے اور ہم پڑھیں نہیں۔اگر واقعہ میں قرآن کریم خدا تعالیٰ کا خط ہے جو اُس نے اپنے بندوں کو لکھا ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ خط اس کے پاس ہو اور پھر وہ چپ کر کے بیٹھا ر ہے اس کا ترجمہ نہ سیکھے۔میں نے حضرت خلیفہ اسیح الاوّل سے یہ مثال سنی ہے کہ جتنا کوئی ان پڑھ ہوتا ہے وہ خط پڑھوانے کی زیادہ کوشش کرتا ہے۔کسی بڑھیا کے پاس اس کے بیٹے کا خط آتا ہے تو وہ ملاں کے پاس جاتی ہے اور اُسے کہتی ہے میاں ! میرے بیٹے کا خط پڑھ دو اور وہ خط پڑھ دیتا ہے تو اسے تسلی نہیں ہوتی۔پھر وہ کسی اور کو دیکھتی ہے اور سمجھتی ہے کہ وہ پڑھا ہوا ہے تو وہ اُس کے پاس جاتی ہے اور کہتی ہے کہ میرے بیٹے کا خط سنا دو۔اسی طرح جب تک وہ سات آٹھ آدمیوں سے اپنے بیٹے کا خط نہیں سن لیتی اسے تسلی نہیں ہوتی۔پس تم میں سے جتنے بھی ان پڑھ ہیں اُنہیں دوسروں سے زیادہ سیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اگر کسی چیز کو سیکھنے کی کوشش کی جائے تو وہ ضرور آ جاتی ہے۔ایک بزرگ کا واقعہ لکھا ہے کہ وہ ایک بادشاہ کے وزیر تھے انہیں علم سیکھنے اور سکھانے کا بہت شوق تھا۔انہوں نے شہر کے لوگوں سے کہا مجھے چالیس لڑکے دے دو اور انہیں بارہ سال کی تک میرے پاس رہنے دو۔اس کے بعد وہ جو چاہیں کریں۔لوگوں کو ان پر اعتبار تھا انہوں نے اپنے لڑکے دے دیئے۔اس بزرگ نے ایک مکان لیا اور خود بھی اس میں آگئے اور کچھ استاد کی رکھ لئے۔ان کا طریق یہ تھا کہ وہ صبح کے وقت اُٹھتے اور قرآن کریم بچوں کے سامنے رکھ دیتے اور کہتے تلاوت کرو۔اس کے بعد تہجد پڑھواتے پھر صبح کی نماز کا وقت ہو جاتا ان سے اذان دلواتے ، اذان اور نماز کے درمیان انہیں قرآن کریم کی ایک آیت بتا دیتے اور کہتے اسے یاد کر لو۔پھر صبح کی نماز پڑھواتے اور نماز کے بعد ایک حدیث یاد کراتے۔اس کے بعد انہیں باہر لے جاتے اور ورزش کرواتے۔جب دھوپ سر پر آجاتی تو انہیں دریا کے کنارے لے جاتے ہی اور اُنہیں تیراندازی سکھاتے۔جب ورزش اور تیراندازی کر کے واپس آ جاتے تو انہیں دوتین چھوٹے چھوٹے اسباق اس رنگ میں دیتے کہ ایک چھوٹا سا مسئلہ نحو کا بتا دیا ، ایک چھوٹا سا مسئلہ صرف کا بتا دیا اور کسی بڑے شاعر کا ایک شعر بتا دیا اور اُس کی لغت یاد کرادی۔پھر ظہر کا وقت آ جا تا نماز پڑھواتے اور نماز کے بعد لڑکوں کو عربی کی کوئی ایک ضرب المثل یاد کرا دیتے ، کوئی ایک