انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 73

انوار العلوم جلد ۲۱ ۷۳ ہرعبدالشکور کنزے کے اعزاز میں دعوتوں کے مواقع پر تین تقاریر تیسری تقریر فرموده ۳ فروری ۱۹۴۹ء بمقام سیالکوٹ ) ( دعوت عصرانه از جماعت احمد یہ سیالکوٹ ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔مسٹر کنزے برلن سے تشریف لائے ہیں یہ ہٹلر کی فوج میں ملازم رہے ہیں اور افریقہ۔کے میدانوں میں پہلے انگریزوں کے خلاف لڑتے رہے ہیں اور پھر امریکنوں اور انگریزوں دونوں کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔غالبا یہ الجیریا میں قید ہوئے اور ان کو امریکہ لے جایا گیا۔وہاں ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ عیسائیت دنیا میں امن قائم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے اس لئے دوسرے مذاہب پر غور کرنا چاہئے اور ایسا مذہب تلاش کرنا چاہئے جس سے دل تسلی پا سکے اور دنیا میں امن قائم ہو۔چنانچہ انہوں نے دوسرے مذاہب کی کتب کا مطالعہ شروع کیا اور اُن کے متعلق معلومات حاصل کیں۔اسی دوران میں انہیں انگلستان بھجوا دیا گیا۔انگلستان پہنچنے کے بعد اتفاقاً اِن کو لندن مشن کا پتہ معلوم ہوا اور انہوں نے وہاں کے موجودہ امام چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ سے جو اتفاقاً سیالکوٹ کے ہی رہنے والے ہیں اور نواب محمد الدین صاحب کے بھتیجے ہیں اسلام کے متعلق معلومات حاصل کیں۔اُنہوں نے فوراً ہی اسلامی لٹریچر بھجوا دیا اور اسلام کے متعلق ضروری کوائف بہم پہنچائے۔چوہدری صاحب نے گورنمنٹ کے افسران سے مل کر انہیں بعض دنوں میں مسجد میں آنے کی بھی اجازت لے دی۔انگلستان میں دوسرے ممالک کی نسبت بہت زیادہ حوصلہ پایا جاتا ہے یہاں تک کہ امریکہ سے بھی جو ڈیما کریسی کا سب سے زیادہ حامی ہے زیادہ حوصلہ ہے۔چوہدری صاحب کی تحریک پر گورنمنٹ کے افسران نے کہا کہ اگر مسٹر کنزے کو اسلام کی تحقیق کا شوق ہے تو وہ پولیس کی نگرانی