انوارالعلوم (جلد 20) — Page 80
انوار العلوم جلد ۲۰ ۸۰ معتد بہ حصے ایسی تحریروں پر مشتمل ہیں جو براہِ راست رسولوں کی طرف سے نہیں ہیں۔دیباچ تفسیر القرآن Yest, as a matter of fact, evrey book in the NT with the exception of the four great epistles of St۔paul is at present more or less the subject of controversy, and interpolations are assented even in these۔19 پھر بھی حقیقت یہ ہے کہ عہد نامہ جدید کی ہر کتاب سوائے پولوس رسول کے چار عظیم الشان خطوط کے کم و بیش ما بہ النزاع ہے اور بیان کیا جاتا ہے کہ ان میں بھی دخل اندازی کی گئی ہے اور زیادتیاں ہوئی ہیں۔پھر پُرانے زمانہ کی تحریف و تبدل کو تو جانے دو لطف یہ ہے کہ انجیل میں آج تک بھی تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔چنانچہ:۔ا۔یوحنا باب ۵ آیت ۲ تا ۵ لکھا تھا:۔(۱) یروشلم میں بھیٹر دروازہ کے پاس ایک حوض ہے جو عبرانی میں بیت حسدا کہلاتا ہے۔اُس کے پانچ اُسارے ہیں۔ان میں ناتوانوں اور اندھوں اور لنگڑوں اور پژمردوں کی ایک بڑی بھیڑ پڑی تھی جو پانی کے ہلنے کے منتظر تھے۔کیونکہ ایک فرشتہ بعضے وقت اُس حوض میں اُتر کے پانی کو ہلاتا تھا اور پانی کے ہلنے کے بعد جو کوئی کہ پہلے اس میں اتر تاکیسی ہی بیماری میں گرفتار ہو اُس سے چنگا ہو جاتا تھا۔یہ واقعہ سینکڑوں سال سے انجیل میں لکھا جارہا تھا اور کسی مسیحی کے دل میں یہ خیال پیدا نہ ہوا تھا کہ یہ واقعہ کسی اور نے انجیل میں داخل کر دیا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بانی سلسلہ احمدیہ نے جب عیسائیت پر یہ اعتراض کیا کہ اگر فلسطین میں ایک ایسا حوض موجود تھا کی جس میں گرنے سے لوگوں کو شفاء ہو جاتی تھی تو گو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اس میں کسی خاص تاریخی میں گرنے سے شفاء ہوتی ہے مگر مسیح نے سمجھ لیا کہ یہ وہم ہے۔اور اصل بات یہ ہے کہ اس پانی کی میں نہانے سے شفاء ہوتی ہے۔پس مسیح نے اس کا پانی مریضوں کو استعمال کرانا شروع کر دیا جس سے اُن کو شفاء ہونی شروع ہو گئی اور لوگ ان کے معجزات کے قائل ہو گئے۔چنانچہ