انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 553 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 553

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۵۳ مسلمانانِ پاکستان کے تازہ مصائب دو مصیبتیں آنے والی ہیں اور بظاہر یوں نظر آئیں گی کہ گویا مسلمانوں کو تباہ کر دیں گی لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اور اُن لوگوں کے طفیل جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کے عادی ہیں ان مصیبتوں کے بدنتائج کو مٹادے گا اور اس خطرہ عظیمہ سے مسلمان محفوظ ہو جائیں گے۔جب مجھے قائد اعظم کی وفات کا علم ہوا تو میں نے سمجھا کہ ایک مصیبت تو ان کی وفات ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ مصیبت مسلمانوں کے لئے در حقیقت ۱۹۴۷ء کے واقعات سے بھی زیادہ سخت ہے کیونکہ گو ۱۹۴۷ء میں لاکھوں مسلمان مارا گیا لیکن اُس وقت ان کے حوصلے توڑنے والی کوئی چیز نہیں تھی لیکن ایک ایسے لیڈر کا جس سے قوم کی امیدیں وابستہ ہوں ایسے وقت میں جدا ہو جانا جبکہ خطرات ابھی بڑھ رہے ہوں اور امید کے پہلو بھی منکشف ہو رہے ہوں نہایت سخت تکلیف دہ ہوتا ہے۔پس یہ دھکا ایسا تھا کہ جس نے ۱۹۴۷ء کے واقعات سے بھی زیادہ مسلمانوں کے دلوں کو دہلا دیا۔مجھے اللہ تعالیٰ نے اس رؤیا کے ذریعہ سے یہ علم بخشا کہ مسلمان اس صدمہ کی برداشت کی طاقت پا جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ایسے سامان کر دے گا کہ اس نقصان سے پاکستان کی بنیاد ہلے گی نہیں بلکہ الہی تدبیر سے محفوظ ہو جائے گی۔مگر مجھے اُس وقت یہ خیال آتا تھا کہ یہ جو خواب میں میں نے بلا ء دیکھی ہے اس کے دوسر تھے۔ایک سر سے تو اُس ابتلاء کی طرف اشارہ ہوا جو قائد اعظم کی وفات کی وجہ سے مسلمانوں کو پہنچا لیکن دوسراسر جو دکھایا گیا ہے اس سے کیا مراد ہے۔دوسرے دن یہ خبر شائع ہوئی کہ ہندوستانی فوجوں نے حیدر آباد پر حملہ کر دیا ہے۔تب میں نے قیاس کیا کہ دوسرے سر سے مراد حیدر آباد پر حملہ ہے اور چونکہ خواب میں کسی مصیبت کے واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا تھا اس لئے میرے دل میں خیال گزرا کہ کہیں یہ حیدر آباد کا حملہ بھی ایک مصیبت نہ بن جائے۔آخر کل کی خبروں سے معلوم ہوا کہ حیدرآباد نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ نظام نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں اور یہ واقعہ تمام باشندگان پاکستان کے لئے نہایت ہی غم و اندوہ کا موجب ثابت ہوا ہے بلکہ اس تھوڑے سے وقت میں میں نے تو بعضوں سے یہاں تک سنا ہے کہ اب جبکہ ہندوستان حیدرآباد سے فارغ کی ہو گیا ہے وہ پاکستان کی طرف رُخ کرے گا۔