انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 496 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 496

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۹۶ دیباچہ تفسیر القرآن دنیا پر نہ خدا کی بادشاہت رہتی ہے نہ انسان کی بلکہ شیطان کی بادشاہت قائم ہو جاتی ہے کیونکہ انسان خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ساتھ ہی انسان بنتا ہے ورنہ وہ وحشی جانوروں میں سے ایک جانور کی طرح ہوتا ہے۔انسان کو خدا تعالیٰ کا مقرب بنانے کے لئے ضروری تھا کہ وہ صاحب اختیار بنایا جاتا۔اس وجہ سے قرآن کریم بتاتا ہے کہ انسان اس دنیا کے ایک حصہ میں مختار ہے اور ایک حصہ میں مقید ہے۔وہ مقید ہے قانونِ قدرت کے معاملہ میں اور مختار ہے قانونِ شریعت کے معاملہ میں۔قانونِ قدرت کے معاملہ میں وہ مقید ہے اس لئے کہ قانونِ قدرت پر عمل کرنے کی وجہ سے وہ کوئی روحانی ترقی حاصل نہیں کرتا اور قانونِ شریعت میں اُسے عمل کی آزادی دی گئی ہے اس لئے کہ قانونِ شریعت پر عمل کرنے سے وہ انعام کا مستحق ہوتا ہے اور انعام اسی صورت میں ملا کرتا ہے جبکہ آزادی عمل حاصل ہو ، جبری طور پر کرائے ہوئے کام کے بدلہ میں انعام نہیں ملا کرتا۔قرآن شریف اس بات کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ انسان کی روحانی ترقی بھی اس کے جسمانی حالات سے متاثر ہوتی ہے اور جس حد تک وہ اِس سے متاثر ہوتی ہے اُس کے اعمال یقیناً محدود ہو جاتے ہیں۔قرآن کریم اس کا جواب یہ بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ انسانی اعمال کی قیمت اُس کے ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے لگائے گا۔مثلاً اگر ایک شخص لاکھوں روپے کا مالک ہو کر دنیا کی بہتری اور بھلائی کے لئے سو روپیہ خرچ کرتا ہے اور ایک دوسرا شخص صرف چند روپوں کا مالک ہو کر دنیا کی بھلائی کے لئے اپنا سارا مال خرچ کر دیتا ہے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے دونوں کو ایک سا ثواب نہیں ملے گا۔جس نے چند روپے خرچ کئے تھے گو اس کے روپے تھوڑے تھے مگر اُسے ثواب زیادہ ملے گا کیونکہ اس کے ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جائے گا کہ اس نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔لیکن جس نے لاکھوں اور کروڑوں روپیہ کے ہوتے ہوئے ایک سو روپیہ کی مدد کی اس کے ماحول کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ اُس نے اپنی طاقت کا ہزارواں کی یا لا کھواں حصہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا۔پس خدا تعالیٰ عمل کی مقدار کو نہیں دیکھتا بلکہ اُس کی ماحول کو دیکھ کر عمل کی قیمت لگاتا ہے جس ماحول میں کوئی انسان کام کرتا ہے اور وہ اُن مجبوریوں کی