انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 494

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۹۴ دیباچہ تفسیر القرآن ہیں۔ایک قانونِ قدرت۔اس کا تعلق انسان کی مادی ترقی کے ساتھ ہے چونکہ اس کا تعلق روح کی کے ساتھ براہ راست نہیں اس لئے اس قانون کے توڑنے پر اس کا طبعی نتیجہ نقصان کی صورت میں تو نکلتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی ناراضگی اور خفگی اس پر نہیں ہوتی۔یہ قانون خدا تعالیٰ نے خود مادہ کے اندر ودیعت کر دیا ہے اس لئے کوئی بیرونی علم اس بارہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں آتا۔دوسرا قانون ، قانونِ شریعت ہے اس کا تعلق روحانی اصلاح کے ساتھ ہے اس قانون کے توڑنے پر خدا تعالیٰ کی ناراضگی ہوتی ہے کیونکہ اس قانون کے پورا کرنے سے ہی انسان اُس مقصد کو پورا کر سکتا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے اور اس قانون کو توڑنے کی وجہ سے وہ اس مقصد سے محروم رہ جاتا ہے جس کے لئے خدا نے اُسے پیدا کیا ہے۔پس جب کوئی شخص اس قانون کو توڑتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کو ناراض کر دیتا ہے لیکن ہر قانونِ شریعت کے توڑنے کا یہ نتیجہ نہیں ہوتا کہ انسان کلی طور پر اپنے مقصد میں نا کام ہو جائے بلکہ اسلام ہمیں بتا تا ہے کہ یہ تمام قانون مجموعی طور پر انسان کی روح کی پاکیزگی اور بلندی کے لئے بھیجا جاتا ہے۔لیکن جس طرح قانون قدرت کے توڑنے سے ضروری نہیں کہ ہر قانون شکنی کی وجہ سے تباہی اور بر بادی آجائے یا ہر بد پر ہیزی کی وجہ سے ضرور بیماری پیدا ہو اسی طرح ضروری نہیں کہ قانون شریعت کا ہر حکم ٹوٹ جانے کی وجہ سے انسان اپنے مقصد سے بالکل محروم رہ جائے یا خدا تعالیٰ کا غضب اس پر نازل ہو جائے کیونکہ شریعت کے تمام احکام اصولی طور پر انسان کی درستی کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں اور شریعت کا تمام نظام اسی مقصد کے لئے ہے۔ایک وسیع نظام جو مختلف طریقوں سے ایک ہی غرض کے لئے اپنا اثر ڈال رہا ہے اگر اُس کا کوئی حصہ اپنا کام کرنے سے عاری رہ جائے تو ضروری نہیں ہوتا کہ نتیجہ مطلوبہ پیدا نہ ہو کیونکہ ہوسکتا ہے کہ جس حصہ نے اپنے کام میں کوتاہی کی ہے دوسرے حصوں کا اثر اس کی کمزوری پر غالب آجائے اور نتیجہ مطلوبہ پھر بھی پیدا ہو جائے۔انسان کا وجود ہی ایک مرکب وجود ہے۔انسان کی زندگی ہوا ، پانی ، غذا اور مختلف چیزوں پر انحصار رکھتی ہے بعض دفعہ ان ذرائع میں سے کسی میں کچھ نقص بھی ہو جاتا ہے۔مگر دوسری چیزوں کے اثر کی وجہ سے وہ بیمار نہیں ہوتا۔اسی طرح شریعت ہے کہ وہ ان احکام پر مشتمل ہے جو انسانی روح کی ترقی کے لئے ضروری ہیں اور ان کا مجموعی اثر انسان کی روحانی ترقی