انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 479

انوار العلوم جلد ۲۰ دیباچهتفسیر القرآن کے معاملہ میں خدا حج کے علاوہ مدعی بھی ہوتا ہے اور بندہ مدعا علیہ ہوتا ہے اور بوجہ مدعی ہونے کے خدا تعالیٰ حق رکھتا ہے کہ اپنے حق میں سے جتنا چاہے چھوڑ دے۔اُس کا حق چھوڑنا رحم کہلائے گا بے انصافی نہیں کہلائے گا، کیونکہ وہ اپنا حق چھوڑتا ہے کسی کا حق مارتا نہیں۔کفارہ کا عقیدہ ایسا عقل کے خلاف ہے کہ غور کرنے کے بعد کوئی شخص اسے تسلیم نہیں کر سکتا۔اگر مسیح کی صلیبی موت پر ایمان لانے کی وجہ سے لوگوں کے گناہ معاف ہو سکتے ہیں تو مسیح سے پہلے آنے والے انبیاء کے گناہ کس طرح معاف ہوئے۔اس صورت میں تو چاہئے تھا کہ مسیح کو ابتدائے عالم میں ہی صلیب پر لٹکا دیا جاتا تا کہ تمام بنی نوع انسان کو نجات حاصل ہو جاتی۔نیز اگر مسیح کی صلیبی موت پر ایمان لانے سے انسان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں تو پھر تو بہ سے کیوں معاف نہیں ہوتے جو ایک طبعی ذریعہ ہے دل کی پاکیزگی کا۔ایک زائد چیز کو مان لینا تو دل کی پاکیزگی کا طبعی ذریعہ نہیں لیکن گناہ پر دل میں ندامت اور شرمندگی کا پیدا ہونا اور انسان کا حسرت کے ساتھ اپنے دل پر ایک موت وارد کر لینا یہ تو دل کی صفائی کا ایک طبعی اور یقینی ذریعہ ہے۔تعجب ہے کہ عیسائی دنیا یہ تو مانتی ہے کہ مسیح کی صلیبی موت پر ایمان لانے سے ایک شخص کا دل صاف ہو جاتا ہے ہے اور خدا تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے لیکن وہ یہ نہیں مانتی کہ ایک شخص جب اپنی غلطی پر اظہار افسوس اور ندامت کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کو معاف کر سکتا ہے۔دنیا کے معاملات میں ہم روزانہ دیکھتے ہیں خود عیسائی بھی اس طریق پر عامل ہیں کہ بسا اوقات ایک غلطی کرنے والا جب اپنے قصور کا اعتراف کرتا ہے اور کچی ندامت اس کے دل میں پیدا ہوتی ہے تو اُسے معاف کر دیا جاتا ہے۔مغربی تعلیم نے اسکولوں کے متعلق اس قانون کو بڑے زور شور سے جاری کر رکھا ہے حالانکہ اگر کفارے کا عقیدہ درست ہوتا تو یوں چاہئے تھا کہ بجائے اس کے کہ سبق نہ یاد کر نے پراگرلڑکے کے دل میں ندامت پیدا ہو تو اُسے معاف کر دیا جائے لڑکا کھڑا ہو کر یہ کہہ دیتا کہ صاحب! میں نے سبق یاد نہیں کیا لیکن ہاں میں مسیح کے کفارہ پر ایمان لے آیا ہوں اس لئے میرا یہ قصور نظر انداز کر دیا جائے لیکن کوئی عیسائی اس پر عمل نہیں کرتا۔استاد اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ سبق نہ یاد کرنے پر اگر تم اپنے دل میں ندامت محسوس کرو اور آئندہ کے لئے اپنی اصلاح کا وعدہ کرو تو میں تمہیں معاف کرنے کے لئے تیار ہوں۔وہ اس بات کا کبھی مطالبہ