انوارالعلوم (جلد 20) — Page 380
انوار العلوم جلد ۲۰ دیباچہ تفسیر القرآن جائے تو زیادہ پیا جاتا ہے اور اس سے معدہ خراب ہو جاتا ہے۔کھانے کے متعلق آپ کا اصول یہ تھا کہ جو چیزیں پاکیزہ اور طیب ہوں وہ کھائیں۔مگرایسی طرز پر نہیں کہ غریبوں کا حق مارا جائے یا انسان کو تعیش کی عادت پڑ جائے۔چنانچہ عام طور پر جیسا کہ بتایا جا چکا ہے آپ کی خوراک نہایت سادہ تھی۔لیکن اگر کوئی شخص کوئی اچھی چیز بطور تحفہ لے آتا تھا تو آپ اس کے کھانے سے انکار نہ کرتے۔مگر یوں اپنے کھانے پینے کے لئے اچھے کھانے کی تلاش آپ کبھی نہیں کرتے تھے۔شہد آپ کو پسند تھا اسی طرح کھجور بھی۔آپ فرماتے تھے کھجور اور مؤمن کے درمیان ایک رشتہ ہے کھجور کے پتے بھی اور اُس کا چھال کا بھی اور اُس کا کچا پھل بھی اور اس کا پکا پھل بھی اور اس کی گٹھلی بھی سب کے سب کارآمد ہیں اس کی کوئی چیز بھی بیکا رنہیں۔مؤمن کامل بھی ایسا ہی ہوتا ہے اس کا کوئی کام بھی لغو نہیں ہوتا بلکہ اس کا ہر کام بنی نوع انسان کے نفع کے لئے ہوتا ہے۔۴۱۵ لباس اور زیور میں سادگی اور تقویٰ لباس کے متعلق بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہایت سادگی کو پسند فرماتے تھے آپ کا عام لباس کر تہ اور تہہ بندیا کرتہ اور پاجامہ ہوتا تھا۔آپ اپنا تہ بند یا پاجامہ منوں سے او پر اور گھٹنوں سے نیچے رکھتے تھے۔گھٹنوں یا گھٹنوں سے اُو پر جسم کے ننگے ہو جانے کو آپ پسند نہیں فرماتے تھے سوائے مجبوری کے۔ایسا کپڑا جس پر تصویریں ہوں آپ پسند نہیں فرماتے تھے۔نہ انسانی لباس میں اور نہ پردوں وغیرہ کی صورت میں۔خصوصا بڑی تصویر میں جو کہ شرک کے آثار میں سے ہیں اُن کی آپ کبھی اجازت نہیں دیتے تھے۔ایک دفعہ آپ کے گھر میں ایسا کی کپڑا لٹکا ہوا تھا آپ نے دیکھا تو اُسے اُتروا دیا۔19 ہاں چھوٹی چھوٹی تصویر جس کپڑے پر کی بنی ہوئی ہوں اُس کپڑے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کیونکہ ان سے شرک کے خیالات کی طرف ج اشارہ نہیں ہوتا۔آپ ریشمی کپڑا کبھی نہیں پہنتے تھے نہ دوسرے مردوں کو ریشمی کپڑا پہننے کی اجازت دیتے تھے۔بادشاہوں کو خط لکھنے کے وقت آپ نے ایک مہر والی انگوٹھی اپنے لئے بنوا ئی تھی مگر آپ نے ارشادفرمایا تھا کہ سونے کی انگوٹھی نہ ہو بلکہ چاندی کی ہو کیونکہ سونا خدا تعالیٰ