انوارالعلوم (جلد 20) — Page iii
انوار العلوم جلد ۲۰ پیش لفظ کی۔کلام اللہ کا مرتبہ اس شان سے ظاہر ہوا کہ اغیار نے بھی کہا کہ مرزا محمود کے پاس قرآن ہے تم اُس کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہو۔الْفَضْلُ مَا شَهِدَتْ بِهِ الْأَعْدَاءُ قوموں کی رستگاری کا عظیم کارنامہ عمر بھر سر انجام دیتے رہے۔کشمیر کے حقوق اور آزادی کی بات ہو یا مسلمانان ہند کی آزادی کا مسئلہ فلسطینیوں کے حقوق و مسائل کی بات ہو یا عربوں کے حقوق و مسائل کی آپ نے بابا نگِ دہل ان کے حق میں آواز اُٹھائی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس سعی جمیلہ کو قبول فرمایا۔انوار العلوم“ کی بیسویں جلد ۱۹۴۸ ء کی چھ تحریرات و تقاریر پر مشتمل ہے۔یہ وہ دور ہے جب کہ ہجرت پاکستان کا واقعہ ابھی بالکل تازہ تھا اور حضور عارضی طور پر رتن باغ لاہور میں فروکش تھے۔اسی سال اللہ تعالیٰ نے اولوالعزم خلیفہ کی برکت سے جماعت کو دوسرا مرکز ”ربوہ“ عطا فرمایا۔جلسہ سالانہ لا ہور کا انعقاد ہوا۔سیاسی منظر نامے میں حیدر آباد دکن پر قبضہ اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات ہوئی۔ان مواقع پر حضور کی تحریرات احمدیوں اور اہل پاکستان کی راہنمائی کا موجب بنیں۔حضور کی معرکۃ الآراء تصنیف دیباچہ تفسیر القرآن بھی ستمبر ۱۹۴۸ء میں منظر عام پر آئی۔جس میں ضرورت قرآن اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح اور صداقت کا بین اظہار فرمایا۔اور اس سلسلہ میں یورپ کے اعتراضات کے دندان شکن جوابات سپر قلم فرمائے۔احمدیت کیا ہے اور کس غرض کے لیے اس کو قائم کیا گیا؟ اس بنیادی سوال کا خوبصورت اور مدلل جواب احمدیت کا پیغام کتابچہ میں تحریر فرمایا۔یہ کتا بچہ بھی اس جلد کی زینت ہے۔۱۹۴۸ء میں ہندوستان کے جلسہ سالانہ کے موقع پر حضور نے جو روح پرور اور زندگی بخش پیغام شرکائے جلسہ کے نام ارسال فرمایا اُس کو بھی شامل اشاعت کیا گیا ہے۔غرضیکہ جلد هذا جہاں حضور کے تبحر علمی کی آئینہ دار ہے وہاں ۱۹۴۸ء کے معروضی حالات پر بھی روشنی ڈالنے والی ہے۔اللہ تعالیٰ اس مواد کو نافع الناس بنائے۔آمین اس موقع پر خاکساراپنے قارئین کرام سے ایک نہایت اہم اور ضروری گزارش کرنا چاہتا ہے۔انوار العلوم“ کی اشاعت کا جب منصوبہ شروع کیا گیا تو اُس وقت یہی خیال تھا