انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 232

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۳۲ دیباچہ تفسیر القرآن مدینہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکلوا دیں۔چنانچہ یہ مشورہ کر کے مکہ کے لوگوں نے عبداللہ بن ابی بن سلول کے نام جس کی نسبت پہلے بتایا جا چکا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے مدینہ والوں نے اُسے اپنا بادشاہ بنانے کا فیصلہ کیا تھا خط لکھا اور اسے توجہ دلائی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ جانے کی وجہ سے مکہ کے لوگوں کو بہت صدمہ ہوا ہے۔مدینہ کے لوگوں کو چاہئے نہیں تھا کہ وہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو پناہ دیتے۔اس کے آخر میں یہ الفاظ تھے انكُمُ اوَيْتُمُ صَاحِبَنَا وَإِنَّا نُقْسِمُ بِاللَّهِ لَتُقَاتِلَنَّهُ أَوْ تُخْرِجَنَّهُ أَوْلَنُسَيَرَنَّ إِلَيْكُمْ بِأَجْمَعِنَا حَتَّى نَقْتُلَ مُقَاتِلَتَكُمْ وَنَسْتَبِيحَ نِسَاءَ كُمْ ۲۴۴۰۰ یعنی اب جبکہ تم لوگوں نے ہمارے آدمی ( محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اپنے گھروں میں پناہ دی ہے ہم خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر یہ اعلان کرتے ہیں کہ یا تو تم مدینہ کے لوگ اس کے ساتھ لڑائی کرو یا اُسے اپنے شہر سے نکال دو نہیں تو ہم سب کے سب مل کر مدینہ پر حملہ کریں گے اور مدینہ کے تمام قابل جنگ آدمیوں کو قتل کر دیں گے اور عورتوں کو لونڈیاں بنالیں گے۔اس خط کے ملنے پر عبد اللہ ابن ابی بن سلول کی نیت کچھ خراب ہوئی اور اُس نے دوسرے منافقوں سے مشورہ کیا کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم نے یہاں رہنے دیا تو ہمارے لئے خطرات کا دروازہ کھل جائے گا اس لئے چاہئے کہ ہم آپ کے ساتھ لڑائی کریں اور مکہ والوں کو خوش کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع مل گئی اور آپ عبداللہ ابن ابی بن سلول کے پاس گئے اور اُسے سمجھایا کہ تمہارا یہ فعل خود تمہارے لئے ہی مضر ہو گا۔کیونکہ تم جانتے ہو کہ مدینہ کے بہت سے لوگ مسلمان ہو چکے ہیں اور اسلام کے لئے جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں اگر تم ایسا کرو گے تو وہ لوگ یقیناً مہاجرین کے ساتھ ہوں گے اور تم لوگ اس لڑائی کو شروع کر کے بالکل تباہ ہو جاؤ گے۔عبداللہ ابن ابی بن سلول پر اپنی غلطی کھل گئی اور وہ اس ارادہ سے باز آ گیا۔انہی ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ی انصار ومہاجرین میں مؤاخات ایک اور تدبیر اسلام کی مضبوطی کے لئے اختیار کی اور وہ یہ کہ آپ نے تمام مسلمانوں کو جمع کیا اور دو دو آدمیوں کو آپس میں بھائی بھائی بہن دیا۔اس مؤاخات یعنی بھائی چارے کا انصار نے ایسی خوشدلی سے استقبال کیا کہ ہر انصاری