انوارالعلوم (جلد 20) — Page 181
انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۸۱ دیباچہ تفسیر القرآن رکھ کر آپ کی زندگی کے حالات کی حقیقت کو انسان اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔آپ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور آپ کی پیدائش منشی حساب سے اگست ۵۷۰ء میں بنتی ہے۔آپ کی پیدائش پر آپ کا نام محمد رکھا گیا جس کے معنے تعریف کئے گئے کے ہیں۔جب آپ پیدا ہوئے اُس وقت تمام کا تمام عرب سوائے چند مستثنیات کے مشرک تھا۔یہ لوگ اپنے آپ کو ابراہیم کی نسل میں سے قرار دیتے تھے اور یہ بھی مانتے تھے کہ ابراہیم مشرک نہیں تھے لیکن اس کے باوجود وہ شرک کرتے تھے اور دلیل یہ دیتے تھے کہ بعض انسان ترقی کرتے کرتے خدا تعالیٰ کے ایسے قریب ہو گئے ہیں کہ اُن کی شفاعت خدا تعالیٰ کی درگاہ میں ضرور قبول کی جاتی ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کا وجود بہت بلندشان والا ہے اُس تک پہنچنا ہر ایک انسان کا کام نہیں کامل انسان ہی اُس تک پہنچ سکتے ہیں اس لئے عام انسانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی وسیلہ بنائیں اور اس وسیلہ کے ذریعے سے خدا تعالیٰ کی رضا مندی اور مدد حاصل کریں۔اس عجیب و غریب عقیدہ کی رو سے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو موحد مانتے ہوئے اپنے لئے شرک کا جواز بھی پیدا کر لیتے تھے۔ابرا ہیم بڑا پاکباز تھا۔وہ خدا کے پاس براہ راست پہنچ سکتا تھا مگر مکہ کے لوگ اس درجہ کے نہیں تھے اس لئے انہیں بعض بڑی ہستیوں کو وسیلہ بنانے کی ضرورت تھی۔جس غرض کے حصول کے لئے وہ ان ہستیوں کے بچوں کی عبادت کرتے تھے اور اس طرح بخیال خود اُن کو خوش کر کے خدا تعالیٰ کے دربار میں اپنا وسیلہ بنا لیتے تھے۔اس عقیدہ میں جو تقائص اور بے جوڑ حصے ہیں اُن کے حل کرنے کی طرف اُن کا ذہن کبھی گیا ہی نہیں تھا کیونکہ کوئی موحد معلم ان کو نہیں ملا تھا۔جب شرک کسی قوم میں شروع جاتا ہے تو پھر بڑھتا ہی چلا جاتا ہے ایک سے دو بنتے ہیں اور دو سے تین۔چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے وقت خانہ کعبہ میں ( جواب مسلمانوں کی مقدس مسجد ہے اور حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیھما السلام کا بنایا ہوا عبادت خانہ ہے ) مؤرخین کے قول کے مطابق تین سو ساٹھ بت تھے گویا قمری مہینوں کے لحاظ سے ہر دن کے لئے ایک علیحدہ بُت تھا۔ان بتوں کے علاوہ ارد گرد کے علاقوں کے بڑے بڑے قصبات میں اور بڑی بڑی اقوام کے مراکز میں علیحدہ بُت تھے گویا عرب کا چپہ چپہ شرک میں مبتلا ہو رہا تھا۔عرب لوگوں میں زبان کی تہذیب اور اصلاح کا خیال بہت زیادہ تھا انہوں نے اپنی زبان کو