انوارالعلوم (جلد 20) — Page 127
انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۲۷ دیباچہ تفسیر القرآن خلاصہ یہ کہ موسیٰ علیہ السلام نے بعثت محمدیہ سے قریباً ۱۹ سو سال پہلے یہ خبر دی تھی کہ موسوی شریعت الہی کلام کا آخری نقطہ نہیں ابھی انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مزید ہدایتوں کی ضرورت ہے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ آخری زمانہ میں ایک اور مامور بھیجے گا وہ ما مور دنیا کے سامنے سب سچائیوں کو پیش کرے گا اور وہی انسان کی روحانی ترقی کا آخری نقطہ ہوگا اس پیشگوئی کے مطابق دنیا میں ابھی ایک اور کتاب اور ایک اور نبی کی ضرورت تھی۔پس قرآن کریم اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بائبل اور موسیٰ اور عیسی کی بعثت کے بعد اگر دنیا کی ہدایت کا من دعویٰ کیا تو وہ بالکل حق بجانب اور خدا تعالیٰ کے کلام کو پورا کرنے والے تھے۔قرآن کریم غیر ضروری نہ تھا بلکہ اگر قرآن کریم نہ آتا تو خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی بہت سی باتیں ظہور میں نہ آتیں اور دنیا بداعتقادی اور شک کے مرض میں مبتلا ہو جاتی۔تیسری پیشگوئی۔جبلِ فاران سے دس ہزار استثناء باب ۳۳ میں لکھا ہے۔اور اُس نے کہا کہ خداوند قدوسیوں کیساتھ ایک عظیم الشان نبی کا ظہور سینا سے آیا اور شعیر سے اُن پر طلوع ہوا۔فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قد وسیوں کے ساتھ آیا اور اُس کے دہنے ہاتھ میں ایک آتشی شریعت اُن کے لئے تھی۔119 حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اس کلام میں اپنے تین جلوے بتائے ہیں۔ان میں سے پہلا جلوہ سینا سے ظاہر ہوا۔اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تو رات میں لکھا ہے:۔اور خداوند کوہ سینا پہاڑ کی چوٹی پر نازل ہوا اور خدا وند نے پہاڑ کی چوٹی پر موسی کو بلایا اور موسی چڑھ گیا ۱۲۰۰ یہ خدائی جلوہ ظاہر ہوا اور جو جو برکتیں اس میں پوشیدہ تھیں وہ دنیا پر ظاہر کر کے چلا گیا۔اس کے بعد دوسرے جلوے کا ذکر کیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ وہ شعیر سے طلوع ہو گا۔شعیر وہ مقام ہے جس کے آس پاس حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات ظاہر ہوئے۔پس شعیر سے طلوع ہونے کے معنی حضرت مسیح علیہ السلام کے ظہور کے ہیں۔مسیحی علمائے انا جیل نے نہ معلوم کیوں شعیر کو سینا کا مترادف قرار دیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ شعیر فلسطین کا حصہ ہے۔یہ نام مختلف