انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 98

انوار العلوم جلد ۲۰ ۹۸ دیباچهتفسیر القرآن کتے اور سور قرار دیا۔کسی شرارت کی وجہ سے نہیں، کسی خاص معاندانہ فعل کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اس لئے کہ اب تک اُن پر صداقت ظاہر نہ ہوئی تھی۔اس کے مقابلہ میں ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ ۵۷ اے ہمارے رسول ! تُو اپنی جان کو ہلاک کر رہا ہے اس لئے کہ کا فرلوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔کیا ہی زمین و آسمان کا فرق ہے ان دونوں مدعیانِ ہدایت وارشاد میں کہ ایک تو ایمان نہ لانے والوں کے غم میں اپنی جان کو ہلاک کر رہا ہے اور دوسرا اپنے حواریوں کو حکم دے رہا ہے کہ اِن کتوں اور سو روں کی پرواہ نہ کرو اور ان کو خدا تعالیٰ کا کلام مت پہنچاؤ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عالی اخلاق کی وجہ سے تمام انبیاء سے بڑھ کر تھے مگر میں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ حضرت مسیح اخلاق سے اتنا گرے ہوئے تھے۔بیشک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو نہیں پہنچے تھے مگر وہ خدا کے نبی تھے خدا تعالیٰ کی طرف سے اخلاق اور روحانیت سکھانے کی کے لئے لوگوں کی طرف آئے تھے اور یقیناً اُن کا نمونہ لاکھوں کروڑوں لوگوں سے اچھا تھا۔افسوس ہے اُس شخص پر جس نے ایسی بُری بات مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب کی۔اس سلسلہ میں اُس کنعانی عورت کا واقعہ بھی نہیں بھلایا جا سکتا جس کا ذکر متی باب ۱۵ آیت ۲۱ تا ۲۶ اور مرقس باب ۷ آیت ۲۴ تا ۲۷ میں آتا ہے۔اُس عورت نے نہایت عاجزی سے مسیح سے عرض کی اور اپنے قومی رواج کے مطابق اُسے سجدہ بھی کیا اور اُس سے صرف اتنا چاہا کہ وہ اُس کو بھی اپنی لائی ہوئی ہدایت سے روشناس کرے۔مگر مسیح نے بقول انجیل یہ جواب دیا کہ :۔مناسب نہیں کہ لڑکوں کی روٹی لے کر کتوں کو پھینک دیں۔وہ مسکین عورت کس اشتیاق اور تمنا کے ساتھ مسیح کے پاس آئی ہو گی۔اس لئے نہیں کہ وہ چی اُس سے روٹی مانگے ، اِس لئے نہیں کہ وہ اُس سے کپڑا مانگے ، اس لئے نہیں کہ وہ اُس سے پانی کی مانگے ، وہ صرف اتنا چاہتی تھی کہ اُس کو کوئی ایسا رستہ بتا دیا جائے جس سے وہ اپنے خدا سے مل سکے۔وہ اُسی چیز کو طلب کرنے آئی تھی جس کے دینے کا مسیح مدعی تھا۔مگر موجودہ انا جیل کہتی ہیں مسیح نے اُسے دھتکار دیا۔ایک طاقتور اور قومی مرد نے ایک کمزور اور مسکین عورت کو منہ در منہ