انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 96

انوار العلوم جلد ۲۰ پھل لگتا ہے۔۹۶ دیباچہ تفسیر القرآن (ب) و نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ ایسے بد اخلاق تھے کہ بجائے اپنی غلطی پر شرمندہ ہونے کے انہوں نے ایک بے جان درخت کو بددعا دی اور کہا کہ آئندہ کوئی تجھ سے کبھی پھل نہ ج کھاوے۔ہم مسلمان جو مسیح کی خدائی کے قائل نہیں انہیں خدا کا ایک نبی مانتے ہیں ہم بھی تو ان سے ایسی بدتہذیبی کے ارتکاب کو تسلیم نہیں کر سکتے۔پھر تعجب ہے ان لوگوں کی پر جو اُن کو خد وخدا کا بیٹا بناتے ہیں اور اخلاق کا بہترین نمونہ قرار دیتے ہیں اور پھر بھی انجیل میں ایسی باتیں ان کے متعلق پڑھتے ہیں اور انہیں برداشت کر لیتے ہیں اور اُن کے دل میں یہ کبھی خیال نہیں آتا کہ یہ باتیں مسیح نے کبھی نہیں کہی ہوں گی بلکہ دوسرے لوگوں نے اُن کی طرف منسوب کر دی ہوں گی۔آجکل کے بعض پادری اس حوالہ کے متعلق کہا کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہودی کی قوم اب پھل دینے کے ناقابل ہوگی اس لئے آئندہ یہودیوں میں سے کوئی نیک پھل پیدا نہیں ہوگا۔لیکن کیا کوئی شخص جو علم ادب سے ذرا بھی حصہ رکھتا ہو اس عبارت کے ایسے معنی کرسکتا ہے؟ کیا انجیر کے درخت سے یہودیوں کو تمثیل دینے کیلئے اس بات کی بھی ضرورت تھی کہ مسیح اُس وقت انجیر کے درخت کے پاس جائے جب اُسے بھوک لگی ہو۔پھر اُس درخت کے پاس جائے جس میں پتے موجود تھے اور پھر راوی اُس کے متعلق یہ الفاظ بھی کہے کہ مسیح اس لئے اُس کی درخت کے پاس گیا تھا کہ شاید اُس میں کچھ پاوے۔مگر جب وہ اس کے پاس پہنچا تو پتوں کے سوا کچھ نہ پایا کیونکہ انجیر کا موسم نہ تھا۔مسیح کا بھوک لگنے پر درخت کے پاس جانا اور ایسے درخت کے پاس جانا جس میں پتے لگے ہوئے تھے اور اس امید کے ساتھ جانا کہ اس سے پھل ملے گا کی جیسا کہ فقرہ شاید اُس میں کچھ پاوے سے ظاہر ہے اور پھر راوی کا یہ کہنا کیونکہ انجیر کا موسم نہ تھا‘ صاف بتاتا ہے کہ کسی تمثیل کے لئے مسیح اُس درخت کے پاس نہیں گیا تھا بلکہ اپنی بھوک کو دُور کی کرنے کیلئے گیا اور ایسے موسم میں گیا جبکہ ممکن تھا کہ درخت میں پھل لگا ہوا ہوتا۔مگر ابھی پورا وقت نہیں آیا تھا یا شاید اس درخت میں پھل عام موسم سے ذرا دیر میں لگتا تھا یا شاید اُس کی بیماری کی وجہ سے اس درخت میں پھل ہی نہیں لگتا تھا۔اس پر مسیح ناراض ہو گیا اور اس درخت پر لعنت کی۔دو