انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 486

میرے بعض عزیزوں نے کہا تم بھی اگر اپنی جورو کے بات میں آنحضرت ﷺ سے اجازت مانگو (کہ وہ تمہاری خدمت کر تی رہے) تو مناسب ہے جیسے آنحضرتؐ نے ہلال بن امیہ کی جورو کو خدمت کی اجازت دی(تم کو بھی اجازت دیں گے)کعب نے کہا میں تو خدا کی قسم کبھی اس بات میںآنحضرت ﷺ سے اجازت نہیں مانگنے کا کیونکہ مجھ کو معلوم نہیں کہ آنحضرت ﷺ کیا فرما ئیں (اجازت دیں یا نہ دیں)میں جوان آدمی ہوں(ہلال کی طرح ضعیف اور ناتواں نہیں ہوں)خیر اس کے بعد دس را تیں اور گزریں اب پچاس راتیں پو ری ہو گئیں اس وقت سے جب سے آپؐ نے لوگوں کو ہم سے سلام کلام کی ممانعت فرما دی تھی پچاسویں رات کی صبح کو جب میں فجر کی نماز پڑھ کر اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا تھا تو جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا وَضَا قَتْ عَلَیْھِمْ اَنْفُسُھُمْ(التوبہ:۱۱۸)میرا دل تنگ ہو رہا تھا اور زمین اتنی کشادہ ہو نے پر بھی مجھ پر تنگ ہو گئی تھی۔اتنے میں میَں نے ایک پکار نے والے کی آواز سنی جو سلع پہاڑی پر چڑھ کر پکار رہا تھا(یہ ابوبکر صدیق ؓتھے) کعب بن مالک ؓخوش ہو جا۔یہ سنتے ہی میںسجدے میں گر پڑا اور مجھ کو یقین ہو گیا۔اب میری مشکل دور ہو ئی اور آنحضرت ﷺنےفجر کی نماز کے بعد لوگوں کو خبردی کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا قصور معاف کر دیا۔اب لوگ خوشخبری دینے میرے پاس اور میرے دونوں ساتھیوں(مرارہ اور ہلال)کے پاس جانے لگے۔ایک شخص (زبیر بن عوامؓ)گھوڑاکداتے ہو ئے میرے پاس آئے او رقبیلے کا ایک شخص دوڑتا ہوا پہاڑ پر چڑھ گیا(حمزہ بن عمر واسلمی) اور پہاڑ پر کی آواز گھوڑےسےجلد مجھ کوپہنچ گئی۔خیر جب یہ خوشخبری کی آواز مجھ کو پہنچی میں نے (خوشی میں آن کر)کیا کیا دوکپڑے جو میرے پاس تھے وہ اتار کر اس کو پہنا دیے اس وقت کپڑوں کی قسم سے میرے پاس یہی دو کپڑے تھے اور میں نے (ابو قتادہ ؓسے) دو کپڑے مانگ کر پہنے اور آنحضرت ﷺ کے پاس چلا۔رستے میں فوج در فوج لوگ مجھ سے ملتے جاتے تھے اور مجھ کو مبارکباددیتےجاتےتھےاورکہتےتھے اللہ کی معافی تم کو مبارک ہو۔کعب کہتے ہیں جب میںمسجدمیں پہنچا۔دیکھا تو آنحضرت ﷺ بیٹھے ہیں لوگ آپ کے گرد ہیں طلحہ بن عبید اللہ ؓ مجھ کو دیکھ کر دوڑ کر اٹھے اور مصافحہ کیا۔مبارکباد دی۔خدا کی قسم مہاجرین میں سے اور کسی نے اٹھ کر مجھ کو مبارکباد نہیں دی۔میں طلحہ ؓ کا یہ احسان کبھی بھولنےوالا نہیں۔کعب کہتے ہیں جب میں نے آنحضرت ﷺ کو سلام کیا میں نے دیکھا آپؐ کا چہرہ خوشی سے جگمگا رہا تھا آپؐ نے فر مایا کعب وہ دن تجھ کو مبارک ہو جو ان سب دنوں سے بہتر ہے جب سے تیری ماں نے تجھ کو جنا۔میں نے عرض