انوارالعلوم (جلد 1) — Page 386
کہ بار بار منع کرو اور اپنی اولاد کو نماز قائم کرنے اور شعائر اللہ کی تعظیم کی تاکید کرو۔اور تقویٰ اختیار کرنے کی ہد ایت کرو اور خود بھی تقوی ٰکو مدار نجات سمجھو۔کیونکہ جو تقویٰ اختیار نہیں کرتےان کا اوڑھنا بچھونا آگ ہی آگ ہے *وہ ان کے لئے سکھ کی کوئی صورت نہیں۔اللہ تعالیٰ بڑارحمنٰ ہے۔قبل از وقت اپنے عذاب سے خوف ولا تا ہے۔اور فرماتا ہے میرے بندو عذاب سے بچاؤ ڈھونڈوفرمانبرداری کا طریقہ اختیار کر لو۔اور جو لوگ جھوٹی باتوں (طاغوت کے معنی ہیں) سے بچتے ہیں انہیں بشارت دے وہ ایک معمولی حاکم سے کوئی بشارت ملے تو انسان پھولا نہیں سماتا۔پھراس انسان کی خوشی کا کیا ٹھکانا ہو سکتا ہے جسے وہ احکم الحاکمین بشارت دے۔زمینی گو ر نمنٹوں کے معمولی انعام کے وعدے بلکہ تنخواہ پانے کی امید پر سپاہی اپنا سر دینے کو تیار ہوتے ہیں حالانکہ اس گورنمنٹ کے ملازم کو پختہ یقین نہیں کہ یہ روپیہ مجھے ملے گا بھی یا نہیں۔شاید اس کے پانے سے پہلے ہی مر جاؤں۔اور اگر مل بھی گیا تو خدا جانے اس سے سکھ ملے یا نہ ملے۔لیکن خدا تعالیٰ تو ابد الآباد زندہ ہے اور اپنے وعدوں کی وفا پر قادر ہے۔اگر اس شخص کے (جس سے وعدہ کیا گیا ہے) حیات کے دن دنیا سے پورے ہو گئے ہیں تو آئندہ زندگی میں بیش از پیش دینے کو تیار ہے۔غرض یہ بشارت خداوندی تو ایسی ہے کہ مرجاؤ تو بھی اس سے مستفید ہو زندہ ر ہو تو اسی دنیا میں بدلہ پالو۔ان بندوں کا سب سے اعلیٰ وصف جن کو خدا تعالیٰ سے بشارت ملتی ہے یہ ہے کہ وہ اچھی اچھی باتو ں پر عمل کرتے ہیں ،* یتبعون احسنہ کے دو معنی ہیں۔ایک تو یہ کہ قرآن مجید پر عمل کرتے ہیں کیونکہ دوسرے مقام پر اللہ نزل احسن الحدیث کتابافرماکر اللہ نے بتا دیا کہ احسن القول قرآن مجید ہے۔دوم یہ قرآن شریف میں جو مختلف مدارج تقوی ٰکے بیان ہوئےہیں ان میں سے بڑے سے بڑے درجہ کے لئے کوشش کرتے ہیں۔مثلا ًابھی جو مدارج میں نے بیان کئے ہیں ان کے مطابق اس آیت کا وہ مصداق ہو سکتا ہے جو صرف صبر و شکر پر کفایت نہ کرے بلکہ احسان کی طلب کرے یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے اپنی جناب سے ہدایت بخشی اور یہی در حقیقت او لووالألباب ہیں۔دنیامیں یوں تو بڑے بڑے فلسفی اور دانشمندی کا دم بھرنے والے ہو گزرے ہیں اور اب بھی ہیں مگر دانا وہی ہے جسے خداخود ہدایت دے اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اپنی جناب سے ہدایت کی * لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌؕ-ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗؕ-یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْ (الزمر۱۷) وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰىۚ-فَبَشِّرْ عِبَادِۙ (الزمر۱۸) ا لَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ (الزمر۱۹)