انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 271

میرا جسم اور روح دونوں شامل تھے اور میں جسمانی اور روحانی دونوں سزائیں بھگت رہا ہوں پس اگر وہ دونوں حصوں میں سزا محسوس کرتا ہے تو دونوں کا علاج الگ الگ طریق سے کرے اور وہ یہی ہے کہ روح کا علاج روحانی کرے اور توبہ و استغفار سے کام لے اور جسم کا جسمانی یعنی طبی علاج کرائے۔پس جو شخص صرف توبہ و استغفار سے کام لیتا ہے اور اس کے جسم نے جو گناہ کیا تھا اس کی تلافی نہیں کر تاتو ایسا شخص اگر اپنی جسمانی سزا سے نہیں بچا تو اسلام کے بتائے ہوئے تو بہ کے مسئلہ پر کوئی اعتراض نہیں پڑسکتا۔اس شخص کی توبہ تو کامل ہی نہیں ہو ئی کیونکہ اس نے خدا تعالیٰ کے بتائےہوئے راستہ کویعنی طبی علاج کو ترک کیا اور اسے اختیار نہیں کیا۔پس ضرور ہے کہ جس حصہ میں اس کی تو بہ ناقص رہی ہے اس میں وہ سزاپائے۔لیکن جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں چونکہ روح کا جسم سے کمال درجہ کا تعلق ہے اس لئے بعض دفعہ روح کا اثر جسم پر بھی پڑ جاتا ہے اور کوئی بات روح پر کمال درجہ کا اثر کرے تو اکثر دیکھا گیا ہےکہ جسم بھی اس سے متاثر ہو جاتا ہے۔اس لئے جن لوگوں کی تو بہ اس حد کو پہنچ جاتی ہے کہ روح شدت اثر سے تڑپ اٹھتی ہے اور وہ توبہ کی ضروری شرط عمل صالحہ سے بھی کام لیتے ہیں اوراپنی اصلاح کامل طور سے کر لیتے ہیں۔اور ان کے دل میں ایسی تڑپ پیدا ہو جاتی ہے کہ نہ صرف پچھلےگناہوں کی بھی تلافی ہو جاتی ہے بلکہ آئندہ کے لئے بھی ان کے خدائے تعالیٰ سے ایسے تعلقات پیدا ہو جاتے ہیں کہ دو غیرمنقطع ہوتے ہیں تو اس صورت میں دیکھا جا تاہے کہ روحانی تو بہ ہی جسم پراثر کرتی ہے اور بغیر کسی جسمانی علاج کے وہ لوگ اپنے جسمانی دکھوں سے بھی نجات حاصل کر لیتےہیں چنانچہ اس کی مثالیں بزرگان اسلام کی لائف میں بکثرت ملتی ہیں۔بارہا ایسا ہوا ہے کہ بعض لوگوں کی توبہ جب کمال درجہ کو پہنچ گئی تو نہ صرف ان کی روح نے بھی نجات پائی بلکہ اس دنیا میںاس کا اثر نمودار ہوا۔اور وہ تھی جو ان کے پچھلے گناہوں کی وجہ سے ان کا جسم پا رہا تھا وہ بھی خود بخوددور ہو گئے اور لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ واقعی اس شخص کی توبہ نے اپنا اثر کیا۔ہمارے حضرت مرزا صاحب ؑکی دعاؤں سے ہی ہم نے بہت دفعہ مشاہدہ کیا ہے کہ بہت سے لوگوں نے شفا ءحاصل کی اور روحانی بیماریوں کے ساتھ جسمانی بیماریوں سے بھی نجات پائی۔پس یہ کہنابالکل غلط ہے کہ توبہ سے کبھی بھی جسمانی بیماریاں دور نہیں ہوئیں۔بلکہ ہوتی ہیں اور ضرور ہوتی ہیں۔ہاں شرط یہ ہے کہ وہ خود اس درجہ کامل ہو جائے کہ وہ جسم پر بھی اثر کرے یا کسی کامل انسان