انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 259

کافر ہوتے ہیں یعنی جن کو اس کے لطف اور کرم پر بھروسہ نہیں ہوتا۔اور جو اس کی مہربانیوں کو جوکہ پیدائش کے دن سے اس دن تک ان پر ہوئی ہوتی ہیں بھلا چکے ہوتے ہیں کیونکہ اگر وہ ایماندارہوتے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفر نہ کر چکے ہوتے تو کبھی بھی یہ گمان نہ کرتے کہ خدا تعالیٰ آڑےوقت میں ان کے کام نہ آئے گا اور توبہ قبول نہ کرے گا پھر اور بہت سی جگہوں میں بار بار فرماتا ہےکہ توبہ کرو توبہ قبول ہوگی چنانچہ فرماتا ہے کہ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًاؕ-عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۙ (التحریم:۹)) یعنی اے لوگو جن کو مجھ پر ایمان کیا ہے میری طرف توبہ کرو اور ایسی تو بہ ہے کہ جو خالص ہو توقریب ہے کہ میں جو تمہارارب ہوں۔تمہاری بدیوں اور گناہوں اور خطاؤں اور کمزوریوں اورنقصوں کو دور کر دوں اور پردہ ڈالدیں اور اس کے بعد تم کو وہ مدارج عنایت کروں کہ تم دین ودنیامیں بڑے ہو جاؤ اور میرے انعامات و اکرامات کے مستحق بن جاؤ اور ملکوں کا بادشاہ تم کو بتا دیاجائے۔پس اس جگہ خدا تعالیٰ نے اپنے گنہگار بندوں کو دلیری دی ہے اور کہا ہے اگر تمہارے دل ایمان کی طرف جھک گئے اور تم نے مجھے پہچان لیا ہے تو آؤ توبہ کرو تاکہ تمہارے گناہ بخش دیئےجائیں اور انعامات الہٰیہ کے تم وارث ہو جاؤ اور پھر فرماتا ہے کہ الم يعلموا أن الله يقبل التوبة عن عباده وياخذ الصدقت وان الله ھو التواب الرجيم (التوبه۱۰۴ ) یعنی کیالوگ نہیں جانتے کہ اللہ ہی تو ہے جو کہ توبہ کو قبول کرتا ہے اپنے بندوں سے اور صدقات لیتا ہے اور یہ کہ تحقیق اللہ تعالیٰ بڑاتوبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے اس جگہ یہ بھی فرمایا ہے کہ اصل میں تو خدا تعالیٰ ہی توبہ قبول کرتا ہے اور کوئی نہیں جو کہ توبہ قبول کرے جس کا یہ مطلب ہے کہ اول تو لوگ خدا تعالیٰ جیسے مہربان اور عنایت فرما ہو نہیں سکتے دوسرے جو لوگ مہربانی کرتے ہیں وہ بھی تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قوتوں کو کام میں لاتے ہیں اس لئے اصل تو وہ اللہ ہی قبول کرتا ہے پس خدا تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ انسانوں نے توبہ کیا قبول کرنی ہے اصل توبہ تو میں قبول کرتا ہوں کیونکہ میں سب سے زیادہ محبت کرنے والا ہوں پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِۙ-ذِی الطَّوْلِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ-اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ ( المؤمن : ۴ )یعنی اللہ تعالیٰ گناہوں کا بخشنے والا اورتو بہ کا قبول کرنے والا ہے اور یہ اس لئے نہیں کہ وہ سزادے نہیں سکتا بلکہ وہ شدید العقاب ہے۔ہاں یہ مہربانی اس لئے ہے کہ وہ ذی الطول یعنی انعام کرنے والا ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔اور اسی کی طرف پھر جانا ہے۔غرض کہ اب میں ثابت کر چکا ہوں کہ خدا تعالیٰ میں کل نیک صفات