انوارالعلوم (جلد 1) — Page 230
جتنے نبیوں کی کتب ہیں۔ان میں سے کسی کتاب کے کسی حکم کا بھی انکار کرنے یا اسے منسوخ کرنےکے لئے میں مبعوث نہیں ہوا بلکہ میرا تو یہ کام ہے کہ میں ان احکام کو پورا کروں۔اور جن باتوں پرلوگوں نے عمل چھوڑ دیئے ہیں۔ان پر ان سے عمل کرواؤں اور جو جو غفلتیں ان میں پھیل گئی ہیں۔ان کو دور کریں۔اور پھر موسیٰؑ کے زمانہ کی طرح یہودیوں کو توریت کا پکامطیع اور فرمانبردار بناؤں۔اور اگر کوئی ایک حکم کبھی مجھ سے چھڑوانا چا ہے، تو میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔اور جیسے توریت اور دوسرے انبیاءؑ کی کتب میں مذکور ہے۔اسی پر عمل کروں گا۔اور اپنے پیرؤوں سے عمل کرواؤں گا۔بلکہ وہ کہتا ہے کہ توریت کے احکام سے تو ایک شوشہ کاٹل جانا بھی اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے کہ آسمان و زمین ٹل جائیں۔اور دنیا غارت ہو جائے۔پس ممکن ہے کہ ایک دم میں تمام زمین و آسمان برباد ہو جائیں۔مگر توریت کے کسی حکم کا ٹلنایا منسوخ ہونا محال اور بالکل محال ہے۔پس اس آیت سے بہت سے مسئلوں کا خود بخود ہی حل ہو جاتا ہے۔مگر اس وقت تو ہم کو صرف اس معاملہ سے تعلق ہے۔کہ آیا مسیحیوں کو غیر قوموں میں تبلیغ کرنے کی اجازت بھی ہے یا نہیں۔سو جبکہ خود مسیح کہتا ہےکہ میں توریت یا دوسرے نبیوں کے مقولوں میں سے کسی کو بھی ردّ کرنے نہیں آیا۔تو صاف بات ہے کہ ہم یہودیوں میں دیکھ لیں کہ وہ کیا اس کے متعلق رائے رکھتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں تو ہم کو معلوم ہو تا ہے کہ توریت و دیگر صحف انبیاء ؑنے یہودیوں کو اپنے مذہب کی تلقین تو الگ غیرقوموں سے میل ملاپ کرنے تک کو منع کیا ہے۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ پوری غیراقوام کو بہت نفرت سے دیکھتے ہیں۔اور نجات کو اپنے ہی اندر مخصوص رکھتے ہیں، اور اپنے سوا دوسری قوموں کو نفرت سے غیر مختون کہتے ہیں۔اور اگر ان میں یہ تعلیم نہ ہوتی تو شاید مسیحی تعلیم بڑھنے بھی نہ پاتی اور وہیں کیا وہیں رہ جاتی۔مگر چونکہ یہودی تو لوگوں کو اپنے اندر شامل نہ کرتےتھے مگر مسیحی کر لیتے تھے۔اس لئے ان کی طاقت روز بروز بڑھنے لگی۔غرضیکہ یہودیوں میں غیرقوموں کو اپنے اندر شامل کرنا ایک سخت گناہ خیال کیا جاتا تھا۔اور اس علم کے بر خلاف کرنا ایک بڑاگناہ سمجھا جاتا تھا۔بلکہ جو ایسا کرے خود اس کے ساتھ تعلق رکھنا بھی ایک گناہ جانتے تھے۔تو اس صورت میں مسیحؑ کے اپنے قول کے مطابق ہی کہ میں توریت کے احکام کا ایک شوشہ مٹانے یامنسوخ کرنے نہیں آیا۔بلکہ اسے پورا کرنے آیا ہوں۔چاہئے تھا کہ حواری با جن لوگوں نے غیرمختون قوم کو اپنے اندر شامل کیا وہ اس کام سے رکتے اور بچتے۔مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔اور انکے اس فعل سے انجیل کی عام منادی کا جواز نہیں نکلتا بلکہ نا فرمانی اور محسن کشی سمجھی جاتی ہے۔کتنے