انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 574

انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۷۴ الكفُرُ مِلَّة وَاحِدَةً اتنے اختلافات کے ہوتے ہوئے بھی قرآن کریم یہود کو دعوت اتحاد دیتا ہے کیا اس موقع پر جب کہ اسلام کی جڑوں پر تبر رکھ دیا گیا ہے، جب مسلمانوں کے مقامات مقدسہ حقیقی طور پر خطرے میں ہیں وقت نہیں آیا کہ آج پاکستانی، افغانی، ایرانی ، ملائی ، انڈونیشین ، افریقن اور ترکی یہ سب کے سب اکٹھے ہو جائیں اور عربوں کے ساتھ مل کر اس حملہ کا مقابلہ کریں جو مسلمانوں کی قوت کو توڑنے اور اسلام کو ذلیل کرنے کیلئے دشمن نے کیا ہے۔اس میں کوئی حبہ نہیں کہ قرآن کریم اور حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی ایک دفعہ پھر فلسطین میں آبادہوں گے لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ وہ ہمیشہ کے لئے آباد ہوں گے۔فلسطین پر ہمیشہ کی حکومت تو عِبَادَ اللهِ الصَّالِحُونَ کے لئے مقرر کی گئی ہے۔پس اگر ہم تقوی سے کام لیں تو اللہ تعالیٰ کی پہلی پیشگوئی اس رنگ میں پوری ہو سکتی ہے کہ یہود نے آزاد حکومت کا وہاں اعلان کر دیا ہے لیکن اگر ہم نے تقویٰ سے کام نہ لیا تو پھر وہ پیشگوئی لمبے وقت تک پوری ہوتی چلی جائے گی اور اسلام کے لئے ایک نہایت خطرناک دھنگا ثابت ہوگی۔پس ہمیں چاہئے کہ اپنے عمل سے ، اپنی قربانیوں سے، اپنے اتحاد سے، اپنی دعاؤں سے، اپنی گریہ وزاری سے اس پیشگوئی کا عرصہ تنگ سے تنگ کر دیں اور فلسطین پر دوبارہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کے زمانہ کو قریب سے قریب تر کر دیں اور میں سمجھتا ہوں اگر ہم ایسا کر دیں تو اسلام کے خلاف جور و چل رہی ہے وہ اُلٹ پڑے گی۔عیسائیت کمزوری و انحطاط کی طرف مائل ہو جائے گی اور مسلمان پھر ایک دفعہ بلندی اور رفعت کی طرف قدم اُٹھانے لگ جائیں گے۔شاید یہ قربانی مسلمانوں کے دل کو بھی صاف کر دے اور ان کے دل بھی دین کی طرف مائل ہو جائیں اور پھر دنیا کی محبت ان کے دلوں سے سرد ہو جائے۔پھر خدا اور اُس کے رسول اور اُن کے دین کی عزت اور احترام پر آمادہ ہو جائیں۔خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ ( الفضل ۳۱ رمئی ۱۹۴۸ء )