انوارالعلوم (جلد 19) — Page 536
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۳۶ سیر روحانی (۴) حضرت عمر سے قیصر کی درخواست حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک دفعہ قیصر کے سر میں شدید درد ہوا اور باوجود ہر قسم کے علاجوں کے اُسے آرام نہ آیا۔کسی نے اسے کہا کہ حضرت عمر کو اپنے حالات لکھ کر بھجوا دو اور ان سے تبرک کے طور پر کوئی چیز منگواؤ وہ تمہارے لئے دُعا بھی کریں گے اور تبرک بھی بھجوا دیں گے ان کی دعا سے تمہیں ضرور شفا حاصل ہو جائے گی۔اُس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا سفیر بھیجا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ یہ متکبر لوگ ہیں میرے پاس اس نے کہاں آنا تھا اب یہ دُکھ میں مبتلاء ہوا ہے تو اس نے اپنا سفیر میرے پاس بھیج دیا ہے اگر میں نے اسے کوئی اور تبرک بھیجا تو ممکن ہے وہ اسے حقیر سمجھ کر استعمال نہ کرے اس لئے مجھے کوئی ایسی چیز بھجوانی چاہئے جو تبرک کا بھی کام دے اور اس کے تکبر کو بھی توڑ دے۔چنانچہ انہوں نے اپنی ایک پرانی ٹوپی جس پر جگہ جگہ داغ لگے ہوئے تھے اور جو میل کی وجہ سے کالی ہو چکی تھی اُسے تبرک کے طور پر بھجوا دی۔اُس نے جب یہ ٹوپی دیکھی تو اُسے بہت بُرا لگا تو اُس نے ٹوپی نہ پہنی مگر خدا تعالیٰ یہ بتانا چاہتا تھا کہ تمہیں برکت اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہی حاصل ہو سکتی ہے۔اسے اتنا شدید دردسر ہؤا کہ اس نے اپنے نوکروں سے کہا وہی ٹوپی لاؤ جوعمر نے بھجوائی تھی تاکہ میں اُسے اپنے سر پر رکھوں چنا نچہ اُس نے ٹوپی پہنی اور اُس کا درد جاتا رہا۔چونکہ اُس کو ہر آٹھویں دسویں دن سر درد ہو جایا کرتا تھا، اس لئے پھر تو اس کا یہ معمول ہو گیا کہ وہ دربار میں بیٹھتا تو وہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی میلی کچیلی ٹوپی اس نے اپنے سر پر رکھی ہوئی ہوتی۔ایک صحابی کی قیصر کے مظام سے نجات یہ نشان جو خدا تعالیٰ نے اسے دکھایا اس میں ایک اور بات بھی مخفی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی قیصر کے پاس قید تھے اور اُس نے حکم دے دیا تھا کہ انہیں سور کا گوشت کھلایا جائے۔وہ فاقے برداشت کرتے تھے مگر سور کے قریب نہیں جاتے تھے اور گو اسلام نے یہ کہا ہے کہ اضطرار کی حالت میں سور کا گوشت کھا لینا جائز ہے مگر وہ کہتے تھے کہ میں صحابی ہوں میں ایسا نہیں کر سکتا۔جب کئی کئی دن کے فاقوں کے بعد وہ مرنے لگتے تو قیصر انہیں