انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 515

انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۱۵ سیر روحانی (۴) بھی یہی دستور تھا۔جب دربان نے شہزادہ کو روکا تو وہ کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ میں کون ہوں؟ اس نے کہا میں خوب جانتا ہوں آپ فلاں گرینڈ ڈیوک ہیں۔اس نے کہا کیا تم کو معلوم نہیں کہ مجھ کو ہر وقت اندر جانے کی اجازت ہے؟ دربان نے جواب دیا میں خوب جانتا ہوں۔یہ سن کر وہ پھر آگے بڑھا اور اندر داخل ہونے لگا۔دربان نے پھر اُسے روکا اور کہا حضور بادشاہ سلامت کا حکم ہے کہ آج کسی شخص کو اندر نہ آنے دیا جائے۔اُسے سخت غصہ آیا اس نے کوڑا اُٹھایا اور دربان کو مارنا شروع کیا کچھ دیر مارنے کے بعد اس نے سمجھا کہ اب اسے ہوش آ گیا ہو گا وہ پھر اندر داخل ہونے لگا مگر ٹالسٹائے پھر راستہ روک کر کھڑا ہو گیا اور اس نے ہاتھ جوڑ کر کہا حضور بادشاہ کا حکم ہے کہ کوئی شخص اندر داخل نہ ہو۔شہزادہ نے پھر اسے مارنا شروع کر دیا وہ سر جُھکا کر مارکھا تا رہا مگر جب تیسری دفعہ شہزادہ اندر داخل ہونے لگا تو پھر اس نے ہاتھ پھیلا دیئے اور کہا اندر جانے کی اجازت نہیں بادشاہ نے منع کیا ہوا ہے۔شہزادہ نے پھر اسے مارنا شروع کر دیا اتفاق کی بات ہے کہ جب پہلی دفعہ شہزادہ نے دربان کو مارا تو شور کی آواز بادشاہ کے کان تک پہنچ گئی اور اُس نے بالا خانہ کی کھڑکی سے یہ نظارہ دیکھنا شروع کر دیا۔جب تیسری دفعہ شہزادہ اُسے مار رہا تھا تو بادشاہ نے اُسے آواز دی کہ ٹالسٹائے اِدھر آؤ۔ٹالسٹائے اندر گیا اور اُس کے ساتھ شہزادہ بھی بڑے غصے کی حالت میں بادشاہ کے پاس پہنچا اور اُس نے کہا آج دربان نے میری سخت ہتک کی ہے۔بادشاہ نے پوچھا کیا ہوا؟ شہزادہ نے کہا میں اندر آنا چاہتا تھا مگر ٹالٹائے مجھے اندر نہیں آنے دیتا تھا۔بادشاہ نے ایسی شکل بنا کر کہ گویا اس واقعہ کا اسے کوئی علم نہیں کہا ٹالسٹائے ! تم نے شہزادے کو اندر داخل ہونے سے کیوں روکا؟ اس نے کہا حضور آپ کا حکم تھا کہ آج کسی شخص کو اندر داخل نہ ہونے دیا جائے۔بادشاہ نے شہزادے کی طرف دیکھا اور کہا کیا اس نے تم کو بتایا تھا کہ میں نے یہ حکم دیا ہے کہ کسی شخص کو اندر نہ آنے دیا جائے؟ اس نے کہا بتایا تو تھا مگر شہزادہ کو کوئی دربان روک نہیں سکتا۔بادشاہ نے کہا میں جانتا ہوں کہ شہزادہ کو کوئی روک نہیں سکتا مگر بادشاہ روک سکتا ہے۔تم نے شہزادہ ہو کر قانون کی بے حرمتی کی ہے اور اس نے دربان ہو کر قانون کی عظمت کو سمجھا ہے۔اور پھر با وجود اس کے کہ اس نے تمہیں بتا دیا تھا کہ یہ میرا حکم ہے پھر بھی تم نے اسے مارا اب اس کی سزا یہ ہے