انوارالعلوم (جلد 19) — Page 512
انوار العلوم جلد ۱۹ دی۔۵۱۲ سیر روحانی (۴) غرض غلطی سے انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کسی مجد ددین اور مامور کی خبر نہیں دی۔لیکن اس میں کوئی بہ نہیں کہ ان کی بات درست ہے سوائے اس کے کہ جس سے سلسلہ نبوت کا آغاز ہو اس کی کوئی اور خبر دے ہی نہیں سکتا اور جو قیامت کے قریب آئے گا وہ کسی بعد میں آنے والے کی خبر نہیں دے سکتا۔لیکن بہر حال جب بھی کوئی ماً مور آئے گا یہ یقینی بات ہے کہ وہ اپنے زمانہ کی خرابی کو دور کرے گا اس کے بعد اگر کسی اور زمانہ میں نئی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں تو پھر دنیا کو ایک نئے مامور کی ضرورت محسوس ہوگی اور یہ سلسلہ آدم سے لے کر اس وقت تک جاری رہا۔تاریکی کے ہر دور میں اسلام کے احیاء کی خبر محمد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا ثبوت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ خبر دی کہ جب بھی اسلام پر تاریکی کا کوئی دور آئے گا اُس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا آدمی کھڑا کیا جائے گا جو دوبارہ اسلام کو اپنی بنیادوں پر قائم کرے گا اور یہ ثبوت ہو گا اس بات کا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضال نہیں کیونکہ کوئی ضال ہزار بارہ سو سال کے بعد اپنے لئے ہمدرد پیدا نہیں کر سکتا اور کوئی شخص یہ طاقت نہیں رکھتا کہ وہ کہہ سکے کہ جب بھی میرے مشن کو نقصان پہنچے گا خواہ کسی زمانہ میں پہنچے اور خواہ دنیا کے کسی علاقہ میں پہنچے اُس وقت آسمان سے ایک ایسا آدمی بھیجا جائے گا جو اس فتنہ کو دُور کر دیگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ : - موت کے بعد میں پھر تجھے حیات بخشوں گا ۲۴ یعنی جب کبھی آپ کے مشن کو کوئی نقصان پہنچنے والا ہو گا خدا تعالیٰ اُس کی زندگی کے پھر سامان پیدا کر دے گا۔آئندہ زمانوں میں پیشگوئیوں بعض لوگ یہ کہا کرتے ہیں کہ اگر یہ پیشگوئی اتنے عرصے کے بعد پوری بھی ہوئی تو اس سے کے پورا ہونے کا فائدہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ملا؟ میں