انوارالعلوم (جلد 19) — Page 409
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۰۹ تقریر جلسه سالانه ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۴۷ء پریشانی ہوئی اور میں نے کہا کہ یہ تو بالکل عام جگہ معلوم ہوتی ہے حفاظت کے لئے یہ کوئی خاص مقام نہیں ان دوستوں میں ایک حافظ محمد ابراہیم صاحب بھی ہیں اور لوگوں کو میں پہچانتا نہیں صرف اتنا جانتا ہوں کہ وہ احمدی ہیں حافظ صاحب نے مجھ سے مصافحہ کیا اور کہا بڑی تباہی ہے بڑی تباہی ہے پھر ایک شخص نے کہا کہ نیلے گنبد میں ہم داخل ہونے لگے تھے مگر وہاں بھی ہمیں داخل نہیں ہونے دیا گیا میں نے نیلا گنبد لا ہور کا ہی سنا ہوا ہے واللہ اعلم کوئی اور بھی ہو بہر حال اس وقت میں نہیں کہہ سکتا کہ نیلے گنبد کے لحاظ سے اس کی کیا تعبیر ہو سکتی ہے البتہ اس وقت بات کرتے کرتے میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ نیلا سمندر کا رنگ ہوتا ہے ممکن ہے کوئی خلیج ایسی ہو جسے انگریز محفوظ سمجھتے ہوں مگر وہاں بھی تباہی ہو۔اس کے بعد حافظ صاحب نے کوئی واقعہ بیان کرنا شروع کیا اور اسے بڑی لمبی طرز سے بیان کر نے لگے جس طرح بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بات کو جلدی ختم نہیں کرتے بلکہ اسے بلا وجہ طول دیتے چلے جاتے ہیں اسی طرح حافظ صاحب نے پہلے ایک لمبی تمہید بیان کی اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جالندھر کا کوئی واقعہ بیان کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہاں بھی بڑی تباہی ہوئی ہے اور ایک منشی کا جو غیر احمدی ہے اور پٹواری یا گر داور ہے بار بار ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ منشی جی ملے اور اُنہوں نے بھی اسی طرح کہا میں خواب میں بڑا گھبراتا ہوں کہ یہ موقع تو حفاظت کے لئے انتظام کرنے کا ہے اور اس بات کی ضرورت ہے کہ کوئی مرکز تلاش کیا جائے اُنہوں نے منشی جی کی باتیں شروع کر دی ہیں چنانچہ میں ان سے کہتا ہوں کہ آخر ہوا کیا ؟ وہ کہنے لگے منشی جی کہتے تھے کہ ہماری تو آپ کی جماعت پر نظر ہے میں نے کہا بس یہی بات تھی نا کہ منشی جی کہتے تھے کہ اب ان کی جماعت احمدیہ پر نظر ہے یہ کہ کر میں انتظام کرنے کے لئے اُٹھا اور چاہا کہ کوئی مرکز تلاش کروں کہ آنکھ کھل گئی۔خواب سے بیدار ہونے کے بعد اس کی تعبیر میرے ذہن میں یہ آئی کہ اس سے مراد کوئی مقامی فتنہ ہے جس میں دشمن سے ہماری جماعت کو کوئی نقصان پہنچے گا کیونکہ سارے نام اپنی جماعت سے تعلق رکھنے والے دوستوں کے ہی تھے مگر نو بجے کے قریب جیسا کہ ریڈیو کی خبروں کی رپورٹ مجھے ملی اس وقت معلوم ہوا کہ جاپان نے یکدم حملہ کر دیا ہے اور وہ بہت سا آگے