انوارالعلوم (جلد 19) — Page 369
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۶۹ تقریر جلسه سالانه ۲۸ دسمبر ۱۹۴۷ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تقریر جلسه سالانه ۲۸ / دسمبر ۱۹۴۷ ءولی تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے سورۃ بنی اسرائیل کی مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی۔اقم الصلوة لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلى غَسَقِ الَّيْلِ وَ قُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا - وَ مِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا - وَقُل رَّبِّ ادْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَج صِدْقِ وَاجْعَل لِّي مِن لَّدُنكَ سُلْطَنَّا نَصِيرًا وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا - ٢ اس کے بعد فرمایا: قادیان میں میرا دستور تھا کہ میں دوسری تقریر کسی علمی موضوع پر کیا کرتا تھا گزشتہ سال بھی میں نے دوسرے دن کی تقریر علمی موضوع پر تیار کی تھی اور وہ تقریر سیر روحانی کا حصہ تھی غالبا اس مضمون پر میری چوتھی تقریر تھی لیکن اللہ تعالیٰ کی کسی حکمت کے ماتحت ۲۸ / مارچ کو بارش ہوگئی اور میں وہ تقریر نہ کر سکا۔میرا خیال تھا کہ میں آج اس مضمون کو بیان کروں لیکن جب میں نے اپنے وہ نوٹ نکالے جن کو میں قادیان سے آتے ہوئے اپنے ساتھ لایا تھا تو ان کے دیکھنے سے میں نے محسوس کیا کہ وہ تھوڑا سا وقت جو اس جلسہ میں مجھے مل سکتا ہے اس میں میں وہ مضمون بیان نہیں کر سکتا۔قادیان میں تو یہ سہولت تھی کہ اپنا گھر تھا، اپنی جگہ تھی ، اپنا لنگر تھا ، دوستوں کے ٹھہرانے کیلئے مناسب انتظام تھا اگر چھ گھنٹے بھی میری تقریر ہوتی تو دوستوں کو کوئی تکلیف نہ ہوتی مگر یہاں دوستوں کے ٹھہرنے کی کہیں جگہ ہے اور ان کے کھانے کا کہیں انتظام ہے پھر جو دوست اپنی اپنی واقفیت کی بناء پر مکانات میں ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی کئی کئی میل دور رہتے