انوارالعلوم (جلد 19) — Page 242
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۴۲ الفضل کے اداریہ جات باقی نہیں رہے گی۔پس ہمارے نزدیک پیشتر اس کے کہ حیدر آباد کے فیصلہ کا اعلان ہو حکومتِ پاکستان کو اعلیٰ سیاسی سطح پر ان دونوں ریاستوں کے متعلق ایک ہی وقت میں فیصلہ کرنے اصرار کرنا چاہئے اور ہندوستانی یونین سے یہ منوا لینا چاہئے کہ وہ دونوں طریق میں سے کس کے مطابق فیصلہ چاہتا ہے کہ آیا والی ریاست کی مرضی کے مطابق یا آبادی کی کثرت رائے کے مطابق۔اگر والی ریاست کی مرضی کے مطابق فیصلہ ہو تو حیدر آباد اور جونا گڑھ کے متعلق ان کو اصرار کرنا چاہئے کہ یہ پاکستان میں شامل ہوں اور اگر آبادی کی کثرتِ رائے کے مطابق فیصلہ ہو تو پھر کشمیر کے متعلق ان کو اصرار کرنا چاہئے کہ وہ پاکستان میں شامل ہو۔ہم جو کچھ اوپر لکھ آئے ہیں اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان کا فائدہ اسی میں ہے کہ کشمیر اس کے ساتھ شامل ہو۔حیدر آباد کی حفاظت کرنی اس کے لئے مشکل ہے اور پھر کسی ایسی حکومت کو دیر تک قابو میں نہیں رکھا جا سکتا جس کی آبادی کی اکثریت ایسے اتحاد کے مخالف ہو۔تیسرے حیدر آباد چاروں طرف سے ہندوستان یونین میں گھرا ہوا ہے اس کے برخلاف کشمیر کی اکثر آبادی مسلمان ہے کشمیر کا لمبا ساحل پاکستان سے ملتا ہے۔کشمیر کی معدنی اور نباتاتی دولت ان اشیاء پر مشتمل ہے جن کی پاکستان کو اپنی زندگی کے لئے اشد ضرورت ہے اور کشمیر کا ایک ساحل پاکستان کو چین اور روس کی سرحدوں سے ملا دیتا ہے۔یہ فوائد اتنے عظیم الشان ہیں کہ ان کو کسی صورت میں بھی چھوڑ نا درست نہیں۔ایک بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کی سرحدیں کشمیر کے ہندوستان یونین میں مل جانے کی وجہ سے بہت غیر محفوظ ہو جاتی ہیں۔پس مملک کے ہر اخبار ، ہر انجمن ، ہر سیاسی ادارے اور ہر ذمہ دار آدمی کو پاکستان حکومت پر متواتر زور دینا چاہئے کہ حیدر آباد کے فیصلہ سے پہلے پہلے کشمیر کا فیصلہ کر والیا جائے ورنہ حیدر آباد کے ہندوستان یونین سے مل جانے کے بعد کوئی دلیل ہمارے پاس کشمیر کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے لئے باقی نہیں رہے گی۔سوائے اس کے کہ کشمیر کےلوگ خود بغاوت کر کے آزادی حاصل کریں لیکن یہ کام بہت لمبا اور مشکل ہے اور اگر کشمیر گورنمنٹ ہندوستان یونین میں شامل ہوگئی تو پھر یہ کام خطرناک بھی ہو جائے گا کیونکہ ہندوستان یونین اس صورت میں اپنی فوجیں کشمیر میں بھیج دے گی اور کشمیر کو فتح کرنے کا صرف