انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxi of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page xxi

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۴ تعارف کتب عَلَى الْإِنْسَانِ أَنْ يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ یعنی انسان کو چاہیے کہ وہ جو کچھ اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی دوسروں کے لئے بھی پسند کرے۔ہمارے تمام مسائل کا حل اسی اصول میں پنہاں ہے۔اگر ہم اپنے اندر یہ روح پیدا کر لیں تو ہمارے تمام مسائل خود بخو دھل ہو جائیں گے۔(١٦) اَلْكُفْرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةٌ ۱۶ رمئی ۱۹۴۸ء کو جب استعماری طاقتوں نے اپنی سیاسی مصالح کی تکمیل کے لئے فلسطین کو نا جائز طور پر تقسیم کرا کے اسرائیلی حکومت کی بنیا د رکھوائی تو اُس وقت حضرت مصلح موعود نے اپنی دور بین نگاہ سے مستقبل میں پیش آمدہ حالات و واقعات اور ان کے نتائج کو بھانپ لیا تھا چنانچہ آپ نے اُس وقت اس عنوان کے تحت ایک فکر انگیز اور بصیرت افروز مضمون رقم فرمایا جو ۳۱ رمئی ۱۹۴۸ ء کے روز نامہ الفضل میں شائع ہوا۔اس مضمون میں آپ نے انتہائی دردمندانہ رنگ میں عالم اسلام کو توجہ دلائی تھی کہ وہ عرب کے عین قلب میں ایک یہودی حکومت کے قیام کے نقصانات کو محسوس کریں اور آپس کے اختلافات کو دور کر کے متحد ہو جائیں اور صیہونیت کے خطرناک عزائم کا مقابلہ کرنے کے لئے مال اور جان کی ہر ممکن قربانی پیش کریں۔اس مضمون کا عربی ترجمہ کر کے وسیع پیمانہ پر شائع کیا گیا اور عرب پریس نے اس مضمون کو بہت اہمیت دی اور مصنف کا شکریہ ادا کیا اور اس کے مندرجات پر تعریفی تبصرے لکھے۔چنانچہ دمشق سے شائع ہونے والے شام کے مشہور اخبار "النهضة" نے اپنی ۱۶ جولائی ۱۹۴۸ء کی اشاعت میں اس مضمون کا خلاصہ درج کرنے کے بعد لکھا کہ:۔یہ لیکچر بہت عمدہ ہے اور مسلمانوں اور فلسطین کے حق میں بہت اچھی آواز ہے ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے دین متین کے بارے میں ہماری تمناؤں اور مصنف کی نیک آرزوؤں کو پورا کرے اور اللہ اس بلند مقاصد میں ہماری پشت پنا ہی فرمائے“۔اس کے علاوہ عالم اسلام کے متعدد اخبارات نے بھی اس مضمون پر بہت زور دار ریویو