انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 548

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۵۴۸ وحشی اور غیر متمدن اقوام میں بیداری کی ایک زبر دست اہر کو چھوڑ چھوڑ کر ہمارے سکولوں میں داخل ہونے کے لئے دوڑے چلے آتے ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ ہمارے پاس کوئی طاقت نہیں، کوئی مال نہیں کوئی اور چیز نہیں جو ان کے لئے دلکشی کا باعث ہو ہم انہیں اپنی طرف کس طرح متوجہ کر سکتے تھے بظاہر ہمارے پاس اُن کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا کوئی ایسا سامان نہیں تھا، کوئی ایسا ذریعہ نہیں تھا جو ان کے لئے دلکشی کا باعث ہولیکن اللہ تعالیٰ جو دلوں کے حالات کو جاننے والا ہے اُس نے افریقن لوگوں کے لئے عربی مدارس کے اجراء کو ہی بہت بڑی دلکشی کا باعث بنا دیا اور وہ محض ہمارے عربی سکولوں کی وجہ سے اپنے سکولوں کو چھوڑ چھوڑ کر ہمارے پاس آ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جس نے عربی پڑھ لی جادو اُس کے قبضہ میں آ گیا جس کے ذریعہ وہ ہر قسم کی مصیبتیں اپنے آپ سے دور کر سکتا ہے یہ سامان ہے جو اللہ تعالیٰ نے افریقن لوگوں کو ہماری طرف متوجہ کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔اب ہمارا کام ہے کہ ہم اس سامان سے فائدہ اُٹھائیں اور افریقہ میں علم اور تہذیب اور شائستگی نہایت وسیع طور پر پھیلا دیں۔دنیا میں ہر نیک سے نیک کام کی توجیہہ ہو سکتی ہے لیکن اگر ہم افریقہ میں تہذیب و تمدن قائم کر دیں، اگر ہم افریقہ میں علوم وفنون کے چشمے جاری کر دیں ، اگر ہم افریقہ میں ایک نئی روح اور نئی زندگی پیدا کر دیں تو دنیا ہمارے اس کام کی سوائے اس کے اور کوئی تو جیہ نہیں کر سکے گی کہ افریقہ میں کام کرنے والی ایک مؤمن جماعت تھی جس نے اپنے نفسوں کو فدا کر کے ایک نئی دنیا پیدا کر دی۔غرض افریقہ ہمارے لئے تبلیغ کا ایک بہت بڑا میدان ہے اور بھی مختلف ممالک مختلف حیثیتوں سے ہمارے لئے نہایت اہمیت رکھتے ہیں مثلاً عرب ہمارے لئے اہمیت رکھتا ہے اس نقطۂ نگاہ سے کہ عرب ہمارا مربی اور ہمارا ہادی ہے۔ہم نے عرب سے ہدایت پائی ہمیں عرب سے قرآن پہنچا اور اب ہمارا فرض ہے کہ ہم ان لوگوں تک احمدیت کا نام پہنچائیں مگر اس نقطہ نگاہ سے کہ دنیا میں ایک بہت بڑا بر اعظم خالی پڑا تھا اور اس پر تہذیب و تمدن کا دور کبھی نہیں آیا تھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے کہ اُس براعظم میں بھی تہذیب و تمدن کا دور قائم کرے۔افریقہ میں تبلیغ اسلام کوئی معمولی مسئلہ نہیں بلکہ بہت بڑی اہمیت رکھنے والا مسئلہ ہے اگر ہماری جماعت اپنی کوششوں میں کامیاب ہو جائے تو کم سے کم اس دلیل کے آگے دشمن بول نہیں