انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 389

انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۸۹ فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین فرموده یکم اکتو بر ۱۹۴۶ء بر موقع جلسہ لجنہ اماءاللہ بمقام ۸ یارک روڈ دہلی ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔قرآن کریم میں جہاں جہاں انسان کی پیدائش کا ذکر آیا ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا کہ پہلے ہم نے ایک نفس کو پیدا کیا پھر خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا ، پھر اسی میں سے اس کا جوڑا پیدا کیا۔اسی نفس سے جوڑا پیدا کرنے کے متعلق بائیل نے یہ تشریح کی ہے کہ حضرت آدم کی پہلی کو چیر کر اس میں سے عورت نکالی گئی ہے لیکن قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ حضرت آدم کی پسلی کو چیر کر اس میں سے عورت کو پیدا کیا گیا بلکہ قرآن مجید کہتا ہے کہ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا کہ اس نفس سے ہی اُس کا جوڑا پیدا کیا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی جنس سے ہی اللہ تعالیٰ نے عورت کو پیدا کیا من کے معنی یہاں جنس کے ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں اس کی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اطِيْعُوا اللَّهَ وَاطِيعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ہے کہ تم اپنے میں سے اُن لوگوں کو حاکم بناؤ جو تمہاری قسم میں سے ہیں اس جگہ کوئی شخص بھی مشکفر کے معنی یہ نہیں کرے گا کہ تم اُن لوگوں کو حاکم بناؤ جو تمہاری پسلیوں میں سے چیر کر نکالے گئے ہیں اور منكم کا لفظ صاف بتاتا ہے کہ اس جگہ مُراد یہ ہے کہ جو لوگ تمہاری قسم کے ہوں۔جس قسم کے تمہارے حالات ہیں اسی قسم کے ان کے حالات ہیں اور جن چیزوں کی تمہیں ضرورت ہے اُن ہی چیزوں کی انہیں بھی ضرورت ہے وہ تمہارے جیسے انسان اور تمہارے سے جذبات ان میں بھی ہیں، تمہاری ضرورت کو سمجھتے ہیں ان کی حکومت کو تسلیم کرو اور خیالی حاکم نہ تلاش کرو کہ نہ ملیں گے نہ مفید ہوں گے۔قرآن کریم میں کثرت سے منھا اور منکم کے الفاظ آئے ہیں