انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 373

انوار العلوم جلد ۱۸ اب عمل اور صرف عمل کرنے کا وقت ہے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اب عمل اور صرف عمل کرنے کا وقت ہے ( فرموده ۲۹ ستمبر ۱۹۴۶ء بمقام دہلی خدام سے خطاب ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بولنا اور تقریر کرنا اپنے دل کی صفائی اور دوسروں کے دلوں کی صفائی کیلئے بنایا ہے لیکن اس چیز کو دنیا نے آہستہ آہستہ تماشہ اور کھیل کا ذریعہ بنالیا ہے۔جتنی جتنی نیکی ترقی کر رہی ہے اتنا ہی شیطان اسے بدلنے کی کوشش کر رہا ہے دوسروں کو نصیحت کرنا ایک بڑی نیکی ہے۔نصیحت کے معنی اخلاص اور خیر خواہی کے ہیں جب کوئی کہتا ہے کہ مجھے نصیحت کرو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میری خیر خواہی کرو اور میرے لئے اچھا راستہ تلاش کرو لیکن اب اس چیز کو بھی لوگ کھیل اور تماشے کا ذریعہ بنا رہے ہیں اور آجکل کے نوجوان عجیب مرض میں مبتلاء نظر آتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ کوئی ایسا عمل کریں جو ان کی زندگی کا میاب بنانے والا اور مخلوق خدا کو فائدہ پہنچائے والا ہو یہ رٹ لگائے جاتے ہیں کہ ہمیں کوئی نصیحت کریں۔چنانچہ جب بھی وہ کسی لیڈر یا راہ نما سے ملتے ہیں تو جھٹ کا پی آگے کر دیتے ہیں کہ اس پر کوئی نصیحت لکھ دیں غرض لفظ ہدایت ، ارشاد اور نصیحت ایک مشغلہ سا بن گیا ہے اور اتنا قیمتی لفظ جس کے لئے بڑے بڑے مفکر اور مد بر پیدا ہوتے آئے ہیں محض ایک رواج بن گیا ہے۔پچھلے دنوں کچھ نوجوان میرے پاس بھی آئے اور میرے سامنے کا پیاں پیش کیں کہ کوئی نصیحت لکھ دیں میں نے ہر ایک کی کاپی پر یہ لکھا کہ لغو باتوں سے اسلام روکتا ہے۔وہ میرے اس فقرہ کو پڑھ کر بہت خوش خوش گئے گویا میں نے ان کی خواہش کو پورا کر دیا ان کو یہ سمجھ نہ آیا کہ میں نے ان کے فعل پر طنز کی ہے۔یہ ہمارے ملک کے لوگوں کی عادت ہے کہ جب کوئی نئی بات نکلے فوراً اس کی تقلید کرنا