انوارالعلوم (جلد 18) — Page 255
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۵۵ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد ( تقریر فرموده ۲۸ / دسمبر ۱۹۴۵ء بر موقع جلسه سالانه بمقام قادیان) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔میں نے اپنی جماعت کے دوستوں کو بارہا اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ہمارا سب سے اہم فرض یہ ہے کہ ہم ساری دنیا میں اسلام اور احمدیت کی آواز پہنچانے کے لئے اپنے مبلغین کا جال پھیلا دیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت کو یہ حقیقت بھی کبھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ کامیابی صرف فوج کو بھرتی کر لینے سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اس فوج کے پاس ہر قسم کا وہ سامان موجود ہو جس سے کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ہم اپنی جماعت میں سے کسی فرد کو یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اے بہادر ! جا اور اپنی جان کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دے بلکہ اگر ہماری جماعت کی تعداد دس کروڑ ہو جائے تو ہم دس کروڑ سے بھی کہہ سکتے ہیں کہ جاؤ اور دین کی اشاعت کرو اور اس راستہ میں اگر تمہاری جان بھی چلی جائے تو اس کی کوئی پرواہ نہ کرو مگر ہمارے شاباش کہنے سے وہ دس کروڑ آدمی ساری دنیا تک پانچ نہیں سکتا۔ساری دنیا تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ جب کوئی ریل میں سوار ہونے لگے تو کرایہ ادا کر کے ٹکٹ خریدے، کسی ہوٹل میں کھانا کھائے تو ہوٹل کا بل ادا کرے کسی شہر میں رہائش کے لئے مکان لے تو اُس مکان کا مناسب کرایہ مالک مکان کو پیش کرے۔جب تک وہ ریل کا کرایہ ادا نہیں کرے گا ، جہاز کا کرایہ ادا نہیں کرے گا، ہوٹل کا خرچ ادا نہیں کرے گا ، مکانوں کا کرایہ ادا نہیں کرے گا اُس وقت تک وہ دنیا تک پہنچ ہی کس طرح سکتا ہے۔پھر یہ بھی ضروری ہوگا کہ اگر وہ اشتہار شائع کرنا چاہے تو اُس کے پاس اس قدر روپیہ موجود ہوجس سے وہ اشتہا رلوگوں کے