انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 108

انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۰۸ اسلام کا اقتصادی نظام امریکہ کیا ہیں؟ مضبوط پہلوان اور کڑور پتی تاجر - اگر روس اپنے اصول میں سچائی پر قائم ہے تو اُسے ان کمزور اور غریب ممالک کے ساتھ ایک ہی صف میں اپنے آپ کو کھڑا کرنا چاہئے تھا اور کہنا چاہئے تھا کہ ہمارا اصول یہ ہے کہ سب انسان برابر ہیں۔ہم اپنے اور ان کمزور حکومتوں میں کوئی فرق نہیں کرنا چاہتے۔جیسے ہمیں اپنی جان پیاری ہے ویسے ہی ان کو پیاری ہے ، جیسے ہمیں اپنے ملک کا فائدہ مدنظر ہے ویسے ہی ان کو مدنظر ہے۔پس حکومتوں کی مشاورتی مجالس میں ہم میں اور کمزور حکومتوں میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے کہ ہر ایک نے اپنے حقوق کی حفاظت کرنی ہے۔مگر روس کی کمیونسٹ حکومت نے ایسا نہیں کیا اُس نے یہ مطالبہ کیا کہ تین بڑوں کے مشورہ سے سب اصول اور امور طے ہوں۔اُس نے اپنی آواز کی اور قیمت مقرر کی ہے اور بیلجیئم اور ہالینڈ کی اور۔اور اگر بیلجئیم اور ہالینڈ کی آوازوں اور روس کی آواز میں فرق ہے، اگر کمزور قوم کو طاقتور قوم کے مقابل پر نہیں لایا جاسکتا، اگر ایک غریب قوم کے ساتھ مساوات کا سلوک نہیں کیا جا سکتا تو فرد کو فرد کے مقابل پر مساوات کیوں دی جائے۔ایک عالم اور جاہل اور ذہین اور کند ذہن میں جو قدرتی فرق ہے اُسے کیوں مٹایا جائے۔اور روس کا خود تھری بگر THREE BIGS) میں شامل ہونا اور اس تین بڑوں یا پانچ بڑوں کے اصول پر زور دینا بتا تا ہے کہ کمیونزم کا مساوات کا اصول بالکل غلط اور دکھاوے کا ہے۔اگر بڑی حکومت چھوٹی حکومت کے مقابل میں امتیازی سلوک کی مستحق ہے تو عالم جاہل کے مقابل پر اور فطرتی صناع اور تاجر ایک کو دن سے صناع اور غیر تجربہ کار تاجر کے مقابل پر اپنے فن سے فائدہ اُٹھانے کا کیوں مستحق نہیں۔ایک بڑی قوم کے مقابل پر ایک چھوٹی قوم کو نیچا کر دینا اس سے زیادہ خطر ناک ہے جتنا کہ ایک شخص کا اپنی قابلیت سے دوسرے سے کچھ آگے نکل جانا خصوصاً ب کهہ طبعی مساوات کے قیام کے لئے اسلام کے مقرر کردہ پاکیزہ اصول موجود ہوں۔اس موقع پر مجھے ہندوستان کے ایک بڑے لیڈر کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ایک دفعہ ایک مقام پر بعض مسائل کے متعلق غور کرنے کے لئے بہت سے لیڈ ر ہندوستان کے مختلف مقامات سے جمع ہو گئے مجھے بھی سر سکندر مرحوم اور سر فیروز خان نون نے تار دیگر بلوایا۔یہ مجلس شملہ میں ہوئی تھی غالباً ۷۰ یا ۸۰ لیڈر تھے جو مختلف مقامات سے شامل ہونے کے لئے آئے تھے۔جب